عجیب واقعہ
حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’طبقات الحنابلہ ‘‘ میں قاضی ابوبکر بن محمد بن عبدالباقی بغدادی ؒ کے حالات میں لکھا ہے۔ ’’ میں ایک زمانہ میں مکہ مکرمہ آ کر پڑ گیا تھا ، ان دنوں ایک مرتبہ بہت ہی سخت بھوک لگی ۔ پاس کچھ تھا نہیں جس سے بھوک مٹاتا ۔ اتفاق سے ایک ریشم کی تھیلی پڑی ہوئی مل گئی جس کا پھُندنا بھی ریشم کی ڈوری سے بندھا ہوا تھا ۔ میں اسے اٹھا کر گھر لے آیا ، اسے کھول کر دیکھا تو اس میں موتیوں کا ایسا نفیس و قیمتی ہار تھا کہ میں نے آج تک اس جیسا نہیں دیکھا تھا میں باہر نکلا تو دیکھا ایک بوڑھا آدمی اسی کا اعلان کر رہا ہے ، اس کے پاس ایک پھٹے پرانے کپڑے میں پانچ سو دینار تھے اور وہ یہ آواز لگا رہا تھا ۔ ’’ موتیوں کی تھیلی واپس کرنے والے کو یہ رقم انعام میں دی جائے گی‘‘۔ میں نے دل میں کہا میں ضرورت مند اور بھوکا ہوں کیوں نہ ان اشرفیوں کو لے کر کام میں لائوں اور اس کو تھیلی واپس کر دوں۔
میں نے اس سے کہا میرے پاس آئیے میں اس کو لے کر گھر پہنچا اس نے ہر چیز کی نشانی بتائی تھیلی کیسی ہے ، پھُندنا کیسا ہے موتی کس طرح کے ہیں اور کتنے ہیں اور یہ کہ جس دھاگے سے باندھا گیا ہے وہ کیسا ہے ؟ علامت صحیح پا کر میں نے تھیلی نکال کر اسے دے دی اس نے پانچ سو دینار میرے آگے کر دیئے ، مگر اس وقت میری عجیب حالت ہوئی ۔ میں نے لینے سے انکار کر دیا ، میں نے کہا یہ میرا فرض تھا کہ میں آپ کو لوٹائوں ۔ میں اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا ! اس نے کہا ، یہ آپ کو لینے پڑیں گے اور بہت ہی اصرار کیا ، لیکن میں تیار نہیں ہوا، آخر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔ ادھر میرا قصہ یہ ہوا کہ میں مجبور ہو کر مکہ سے نکلا اور بحری سفر شروع کر دیا ۔ اتفاق سے راستے میں کشتی ٹوٹ گئی ، اور مسافر ڈوب گئے اور ان کا سامان ضائع ہو گیا تنہا ایک میں تھا جو کشتی کے ایک ٹکڑے پر زندہ بچا رہا۔ عرصہ تک سمندر میں تیرتا رہا ۔ مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں ۔ خدا خدا کر کے ایک جزیرے میں پہنچا، جہاں کچھ لوگ آباد تھے ۔ میں ایک مسجد میں جا کر بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھے قرآن پاک پڑھتے دیکھا تو جزیرہ کا کوئی شخص ایسا نہ بچا جس نے میرے پاس آ کر یہ نہ کہا ہو کہ ’’ آپ ہمیں قرآن پاک پڑھا دیجئے ‘‘ اس طرح مجھے ان لوگوں سے ڈھیروں مال حاصل ہوا ۔
کچھ دن بعد میں نے اس مسجد میں قرآن پاک کے چند بوسیدہ اوراق رکھے ہوئے دیکھے ۔ میں انہیں اٹھا کر پڑھنے لگا ، انہوں نے پوچھا ’’ آپ خوشنویسی بھی جانتے ہیں ؟ ‘‘ میں نے کہا ، جی ہاں ۔ انہوں نے کہا ’’ آپ ہمیں لکھنا سکھا دیجئے ‘‘ ۔ غرض وہ اپنے بچوں اور جوانوں کو لے کر آ گئے اور میں انہیں سکھانے لگا ۔ اس سے بھی مجھے بہت کافی مال و اسباب حاصل ہوا ۔
ایک دن وہاں کے لوگوں نے مجھ سے کہا ، ہمارے یہاں ایک یتیم بچی ہے اور اس کے پاس مال و متاع بھی کافی موجود ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس سے شادی کر لیں ۔ میں نے منع کر دیا ، لیکن وہ میرے پیچھے پڑ گئے اور مجھے ان کی بات ماننی پڑی۔ جب شبِ زفاف میں اسے لے کر میرے پاس آئے تو میں نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا ۔ میں نے اس کی گردن میں بعینہ وہی ہار لٹکا ہوا دیکھا تو بھونچکارہ گیا۔ اب میں صرف اس ہار کو دیکھ رہا تھا ۔ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا: ’’ جناب آپ نے اس یتیم بچی کا دل توڑ دیا ۔ آپ اسے دیکھنے کے بجائے ہار دیکھ رہے ہیں ‘‘ ۔
میں نے انہیں ہار کا قصہ سنایا تو سب نے ایک ساتھ نعرہ لگایا اور اتنی زور سے اللہ اکبر کہا کہ تمام جزیرے والوں تک وہ آواز پہنچی ۔ میں نے کہا ، کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا ، جن بڑے میاں نے تم سے ہار لیا تھا وہ اسی بچی کے باپ تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے مجھے دنیا میں صرف ایک سچا اور پکا مسلمان ملا اور وہ وہ تھا جس نے مجھے ہار لوٹایا ۔ وہ خدا سے دعا کرتے تھے ، ’’ خدایا مجھے اس سے پھر ملا دے تاکہ میں اسے اپنی بیٹی بیاہ دوں ‘‘ ۔ اور اب وہ آپ کو مل گئی ۔
میں ایک مدت تک اس کے ساتھ رہا ، اللہ نے مجھے اس سے دو بیٹے بھی دیئے ۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا اور ہار کا وارث میں اور میرے دونوں لڑکے ہوئے ۔ کچھ دنوں بعد بچے بھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور ہار تنہا میرے قبضے میں آیا ۔ میں نے اسے ایک لاکھ دینار میں فروخت کیا اور یہ جو مال و متاع تم کو نظر آ رہا ہے یہ سب اسی رقم کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ (شمارہ ۸۰)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

