نظر کے کرشمے اور دنیا کی حقیقت

نظر کے کرشمے اور دنیا کی حقیقت

ایک بار بادشاہ وقت افلاطون کے پاس آیا اور بعد امتحان اس نے بادشاہ کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی، جب رخصت ہونے لگا تو افلاطون نے کہا کہ میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں، بادشاہ نے دل میں کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ دنوں تک تنہائی میں رہتے رہتے خبط ہوگیا ہے، یہ جنون ہی تو ہے کہ آپ کی ایسی پھٹی ٹوٹی حالت اور بادشاہوں کی دعوت کرنے کے حوصلے اور بادشاہ اس خیال میں معذور بھی تھا وہ تو اسی متاع کو بڑی چیز سمجھتا تھا، مگر افلاطون کی نظر میں اس کی وہ وقعت تھی جیسے بچے ایک گھر بناتے ہیں وہاں سہہ دریاں بھی ہیں کمرے بھی ہیں سب کچھ موجود ہے مگر باپ اس کو دیکھ کر ہنس رہا ہے کہ ان حضرات کا سارا گھر میری ایک لات کا ہے، بس ایسی ہی متاع ہے عقلاء دنیا کی جیسے ایک نہیار اپنے سر پر چوڑیوں کا ٹوکرا لئے جارہا تھا گائوں والوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی چیز کی بابت انہیں پوچھنا ہوتا ہے اپنی لاٹھی سے آہستہ سے ایک کھودا دیا کرتے ہیں، کھود کرید کرنے کے لئے اسی طرح دیہاتی نے ان چوڑیوں میں لاٹھی سے کھودا دے کر منہیار سے پوچھا کہ ارے یہ کیا ہے اس نے کہا جی بس ایک دفعہ اور مار دو کچھ بھی نہیں یعنی ایک ضرب سے سب تقسیم تفریق سے مبدل ہو کر کسور تک پہنچ گئی اور کسور بھی صرف کسور عام نہیں بلکہ کسور اعشاریہ بھی غرض سارا حساب یہیں ختم ہوگیا تو اہل دنیا کے نزدیک دنیا کی متاع بڑی چیز ہے۔
افلاطونی دعوت: اسی بناء پر بادشاہ نے عذر کیا افلاطون کو اس خیال کا ادراک تھا اس لئے افلاطون نے کہا میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں یہ سن کر بادشاہ نے دل میں تو یہی کہا کہ واقعی اس کے دماغ میں خلل معلوم ہوتا ہے اس کے پاس ضروری سامان تک نہیں یہ مجھے کھلاوے گا کیا، لیکن زبان سے یہ بات تو ادب کی وجہ سے کہہ نہ سکا کہ یہ عذر کیا کہ آپ کو فضول تکلیف ہوگی افلاطون نے کہا کہ نہیں مجھے کچھ تکلیف نہیں ہوگی، میرا جی چاہتا ہے، جب اصرار دیکھاتو بادشاہ نے دعوت منظور کرلی، اچھا آجائوں گا اور ایک آدھ ہمراہی بھی میرے ساتھ ہوگا افلاطون نے کہاکہ نہیں مع لشکر اور وزراء امراء سب کی دعوت ہے، غرض ایک ساتھ دس ہزار کی دعوت کردی اور لشکر معمولی نہیں خاص شاہی لشکر بادشاہ نے کہا خیر خبط تو ہے ہی یہ بھی سہی غرض تاریخ معین پر بادشاہ مع لشکر اور امراء کے افلاطون کے پاس جانے کے لئے شہر سے باہر نکلا تو کئی میل پہلے سے دیکھا کہ چاروں طرف استقبال کا سامان کا سامان نہایت تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ہے ہر شخص کے لئے اس کے درجہ کے موافق الگ الگ کمرہ موجود ہے اور دو طرفہ باغ لگے ہوئے ہیں رات کا وقت تھا ہزاروں قندیل جگہ جگہ ناچ رنگ نہریں اور وہ ایک عجیب منظر پیش نظر تھا اب بادشاہ نہایت حیران تھا کہ یا اللہ یہاں تو کبھی کوئی ایسا شہر تھا نہیں غرض ہر شخص کو مختلف کمروں میں اتارا گیا اور ہر جگہ نہایت اعلیٰ درجہ کا سامان فرش فروش، جھاڑ فانوس، افلاطون نے خود آکر مدارت کی اور بادشاہ کا شکریہ ادا کیا، ایک بہت بڑا مکان تھا اس میں سب کو جمع کرکے کھانا کھلایا گیا کھانے ایسے لذیذ کہ عمر بھر کبھی نصیب نہ ہوئے تھے بادشاہ کو بڑی حیرت کہ معلوم نہیں اس شخص نے اس قدر جلد یہ انتظامات کہاں سے کئے بظاہر اس کے پاس کچھ جمع پونجی بھی نہیں معلوم ہوتی یہاں تک کہ جب سب کھا پی چکے تو عیش و طرب کا سامان ہوا ہر شخص کو ایک الگ کمرہ سامان سے آراستہ پیراستہ ، اندر گئے تو دیکھا کہ تتمیم لطف اور تکمیل عیش کے لئے ایک ایک حسین عورت بھی ہر جگہ موجود ہے غرض سارے سامان عیش و طرب کے موجود تھے خیر وہ لوگ کوئی متقی پرہیز گار تو تھے نہیں اہل خانقاہ تھوڑے ہی تھے بلکہ خواہ مخواہ کے آدمی تھے جیسے مشہور ہے، الفربہ خواہ مخواہ مراد آدمی یہ رنگ مہمانی دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور رات بھر خوب عیش اڑائے کیونکہ ایسی رات انہیں پھر کہاں نصیب ہوتی یہاں تک کہ سوگئے۔
جب صبح آنکھ کھلی تو دیکھتے کیا ہیں کہ نہ باغ ہے بلکہ نرا اراغ ہے، نہ درخت ہیں بلکہ نرے کرخت ہیں یعنی بجائے درختوں کے دیکھا کہ پتھر کھڑے ہوئے ہیں اور ایک ایک پولا سب کی بغل میں ہے اور پاجامہ خراب ہے یہ عورتیں تھیں بڑے شرمندہ ہوئے کہ لاحول ولا قوۃ یہ کیا قصہ ہے بادشاہ کی بھی یہی حالت تھی افلاطون نے بادشاہ سے کہا کہ تم نے دیکھا یہ ساری دنیا جس پر تمہیں اتنا ناز ہے ایک عالم خیال ہے اور حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں، اس قدر قوی تصرف تھا افلاطون کے خیال کا کہ پس اس نے یہ خیال جما لیا کہ ان سب کے متخیلہ میں یہ ساری چیزیں موجود ہوجائیں بس سب کو وہی نظر آنے لگیں جب وہ لوگ سو گئے اس نے اس خیال کو ہٹا لیا پھر صبح اٹھ کر جو انہوں نے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا، افلاطون مجاہدہ و ریاض کئے ہوئے تھا، اس لئے یہ قوت اس کے خیال میں پیدا ہوگئی تھی یہ تصوف نہیں ہے تصرف ہے، یہ اور چیز ہے وہ اور چیز ہے بس مزہ سب سرد ہوگیا افلاطون نے کہا کہ جیسے تمہیں ان چیزوں میں مزہ آتا ہے مجھے بالکل نہیں آتا کیونکہ مجھے ان کی حقیقت معلوم ہے تو واقعی جو کچھ نظر آیا وہ عالم خیال تھا مسمریزم میں بھی جو کچھ نظر آتا ہے وہ عالم خیال ہی ہوتا ہے اور یہ جو حاضرات واضرات ہے یہ بھی وہی ہے محض قوت خیالیہ کا اثر ہوتا ہے روح ووح کچھ نہیں ہوتی، اسی واسطے بچوں پر یہ عمل چلتا ہے۔ (شمارہ نمبر 9)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more