اعجاز ابراہیمی کے پرتو کی جھلک

اعجاز ابراہیمی کے پرتو کی جھلک

حضرت ابو مسلم خولانیؒ جو طبقہ تابعین میں بلند پایہ بزرگ ہیں ان کا ایک عجیب وقعہ حدیث و تاریخ کی نہایت مستند کتاب جلسہ ابی نعیم، تاریخ ابن عساکر، تاریخ ابن کثیر وغیرہ میں محدثانہ اسانید کے ساتھ مذکور ہے، جس کے دیکھنے سے سرور کائنات فخر موجودات نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت کمالات کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ جو معجزات و کمالات انبیائے سابقین کو عطا ہوئے تھے اسی قسم کے بعض کمالات اور خوارق عادات حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے افراد پر ظاہر فرما کر اہل علم پر ظاہر فرمادیا کہ:
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
مسیلمہ کذاب کا نام شیطان کی طرح ایسا مشہور ہے کہ غالباً بہت سے عوام بھی اس سے واقف ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کا اعلان کیا کہ میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نبوت ہوں۔
یمن میں اس کی نشوؤ نما ہوئی، بے وقوف اور محروم القسمت گمراہوں کی ایک بڑی جماعت اس کے ساتھ ہوگئی، یہاں تک کہ اطراف یمن پر چھا گئی اور لوگوں کو جبر و اکراہ سے اپنے باطل مذہب کی طرف دعوت دینے لگی۔
ایک روز مسیلمہ کذاب نے حضرت ابو مسلم خولانی کو گرفتار کراکے اپنے سامنے حاضر کیا اور دریافت کیا کہ کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا کہ میں سنتا نہیں ہوں، اس نے پھر کہا کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ ابو مسلمؒ نے فوراً کہا بے شک!
اس نے پوچھا کہ کیا تم اس کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، ابو مسلمؒ نے فوراً جواب دیا کہ میں سنتا نہیں، پھر پوچھا کہ کیا تم اس کی شہادت دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو فرمایا کہ ہاں، اسی طرح پھر تیسری مرتبہ دونوں جملے دریافت کئے اور یہی دونوں جواب سنے۔
غصہ میں آکر حکم دیا کہ ایک عظیم الشان انبار سوختہ کا جمع کرکے آگ روشن کردو اور ابو مسلم کو اس میں ڈال دو، اس حزب شیطان نے حکم پاتے ہی یہ جہنم کا نمونہ تیار کردیا اور ابومسلم کو بے دردی کے ساتھ اس میں ڈال دیا، مگر جس قادر مطلق نے حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کیلئے دہکتی آگ کو ایک پرفضا باغ اور بردو سلام بنادیا تھا وہ حیی و قیوم آج بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں جاں نثاری کرنے والے ابو مسلمؒ کو دیکھ رہا تھا، اس نے اس وقت پھر وہی معجزہ ابراہیمی کی ایک جھلک دنیا کو دکھلادی اور پیروان نمرود کی ساری کوششیں خاک میں ملادیں، حضرت ابو مسلمؒ صحیح سالم اس آگ سے برآمد ہوئے تو مسیلمہ کذاب کے ساتھی خود متذبذب ہونے لگے اور مسیلمہ نے اس کو غنیمت سمجھا کہ کسی طرح یہ یمن سے چلے جائیں۔ابو مسلمؒ نے اس کو قبول کیا اور یمن کو چھوڑ کر مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ لی، مدینہ طیبہ پہنچے تو مسجد نبوی میں داخل ہو کر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کردی، اچانک حضرت فاروق اعظمؓ پر ان کی نظر پڑی تو بعد فراغت نماز دریافت کیا کہ آپؓ کہاں سے آئے ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ یمن سے (مسیلمہ کذاب کا یہ واقعہ کہ کسی مسلمان کو اس نے آگ میں جلا دیا ہے بہت مشہور ہوچکا تھا اور حضرت فاروقؓ بھی اس سے متاثر اور حقیقت دریافت کرنے کے مشتاق تھے) ان سے پوچھا کہ آپ کو اس شخص کا حال معلوم ہے جس کو مسیلمہ نے آگ میں جلا دیا ہے؟
ابو مسلم نے غایت ادب سے صرف اپنا نام لے کر عرض کیا کہ وہ شخص عبداللہ بن ثوب (یعنی خود) یہی ہے حضرت فاروق اعظمؓ نے قسم دے کر فرمایا کہ کیا واقعی آپؒ ہی کو اس نے آگ میں ڈالا تھا، انہوں نے بقسم عرض کیا کہ میں ہی اس کا صاحب واقعہ ہوں۔
حضرت فاروقؓ یہ سن کر کھڑے ہوگئے اور ان سے معانقہ کیا، پھر روتے رہے اور اپنے ساتھ لے گئے اور صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھلایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ اس نے مجھے اس وقت تک زندہ رکھا کہ اپنی آنکھوں سے میں نے ایسے شخص کی زیارت کرلی جس کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا تھا۔ واللہ الہادی (شمارہ نمبر 20)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more