حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت مبارکہ کی برکت سے صحابہؓ کی زاہدانہ زندگی کا ایک عجیب عبرت انگیز واقعہ
حضرت سعد بن عمیرؓ بیت المقدس اور فلسطین کے والی بنائے گئے تھے اور ایک عرصے تک بنے رہے پھر حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا حضرت عمرؓ اپنے گورنروں اور عمال کا امتحان کیا کرتے تھے کہ کہیں وہ ظلم کی طرف تو نہیں جارہے ہیں کہیں ان سے عدل و انصاف کی بٹیا چھوٹ تو نہیں گئی، دوسرے آدمیوں کے ذریعے بھی جانچ کراتے تھے اور خود بھی رات کو بھیس بدل بدل کر نکلتے تھے کہ مخلوق کی اخلاقی حالت کیسی ہے۔
غرض انہوں نے ایک خادم کو شام بھیجا کہ جا کر ذرا سعد بن عمیر کی خبر لائو کہ کس حالت میں ہے اور پانچ سو روپے کی تھیلی دی کہ میری طرف سے ہدیے کے طور پر پیش کردینا، مقصد جانچ کرنا تھا، خادم پہنچا، حال یہ ہے کہ سعد فلسطین کے گورنر ہیں اس متمدن ملک کے کہ جہاں کھیت اور پھل اور سبزہ زاروں کی کوئی کمی نہیں مگر گورنر صاحب ایک خس پوش کچے سے مکان میں دروازے پر بیٹھے ہوئے رسیاں بٹ رہے تھے، بٹ بٹ کے پیٹ پالتے تھے اس سے جو پیسے ملتے تھے ان سے گزر اوقات کرتے تھے، بیت المال اور خزانے پر بار نہیں ڈالتے تھے۔
غرض خادم پہنچا توکھڑے ہوگئے، بہت محبت سے ملے، خادم نے حضرت عمرؓ کا پیغام پہنچایا بہت خوش ہوئے، اب حضرت عمرؓ تو گورنر کی جانچ کررہے تھے کہ گورنر صاحب نے امیر المؤمنین کی جانچ شروع کردی، خادم سے کہا کہ عمر تو بڑا مال دار ہوگیا ہوگا اس واسطے امیر المؤمنین ہے خزانے اس کے تحت میں ہیں ہزاروں لاکھوں روپیہ جمع کرلیا ہوگا؟ خادم نے کہا کہ نہیں! حضرت عمرؓ کا وہی زہد و قناعت قائم ہے جو زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر قائم تھا، وہی جو کی روٹی، وہی پیوندوں کے کپڑے، وہی زہد، وہی قناعت، کہا الحمد للہ! خدا نے ہمیں ایسا امیر دیا کہ جو خزانوں پر قابض ہو کر پھر بھی زاہد اور متقی ہے۔
اس کے بعد سوال کیا کہ حضرت عمرؓ کے ہاں مقدمات تو آتے ہوں گے، خوب جانبداریاں کرتا ہوگا، اپنے رشتہ داروں کی حمایت کرتا ہوگا، دوستوں کو جتاتا ہوگا؟ خادم نے کہا کہ نہیں حضرت عمرؓ غریب کو اور امیر کو ایک نگاہ سے دیکھتے ہیں پبلک کے تمام افراد ان کی نگاہ میں یکساں ہیں وہ عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں، کہا: الحمد للہ! خدا نے ہمیں ایسا امیر دیا جو عادل بھی ہے منصف بھی ہے، کامل بھی ہے، غرض وہ تو جانچ کررہا ہے امیر المؤمنین کی طرف سے گورنر کی اور گورنر جانچ کررہے ہیں امیر المؤمنین کی کہ ان میں تو کوئی فرق نہیں آیا، جب یہ سب کچھ ہوچکا تو خادم نے پانچ سو روپے کی تھیلی پیش کی کہ حضرت عمرؓ نے بطور ہدیہ کے دی ہے۔
بس یہ دیکھتے ہی غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ یہ مال عمرؓ کے باپ کا ہے جو ہزار ہزار، پانچ پانچ سو تقسیم کرتا ہے، اس کے باپ کا خزانہ ہے؟ کہا نہیں، حضرت عمرؓ نے ذاتی طور پر دئیے ہیں تو کہا اچھا عمرؓ سرمایہ دار بن گیا ہے کہ پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار روپیہ ہدیہ کے طور پر بھیجتا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
غرض ہدیہ قبول کرلیا مگر اس ہدیہ کا حشر یہ ہوا کہ اپنے بدن سے چادر اٹھائی اور جہاں کوئی غریب گزرا چادر میں سے دو تین بالشت کی ایک پٹی پھاڑ دی اور دس بیس روپیہ اس میں باندھ کر اس کے سامنے پھینک دئیے، کوئی یتیم گزرا پھر ایک پٹی پھاڑی دس بیس باندھے اس کے آگے ڈال دئیے، شام تک روپیہ بھی ختم ہوگیا اور گورنر صاحب کی چادر بھی ختم ہوگئی، اخیر میں بیوی نے کہا میرے ہاں کئی دن سے فاقہ ہے کچھ مجھے بھی دیدو تو خفا ہوگئے دو تین درہم پھینک دئیے کہ تو بھی اگر اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرنا چاہتی ہے تو بھرلے تجھے مبارک ہو، تو یہ کیفیت تھی۔
اس کے بعد خادم نے پیغام دیا کہ حضرت عمرؓ کا جی چاہتا ہے کہ آپ سے ملاقات کریں، آپ کو بلایا ہے، فرمایا کہ چلو، اسی وقت لاٹھی ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوگئے، اڑھائی سو میل کے سفر کیلئے تیار ہوگئے، نہ اونٹنی، نہ سواری، کہا بس چلو، اور پیدل ہی امیر المؤمنین کی طرف روانہ ہوگئے۔
حضرت عمرؓ کو اطلاع دے دی گئی کہ فلاں دن پہنچیں گے، حضرت عمرؓ شہر سے باہر استقبال کے لئے تشریف لائے، ملاقات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن عمیرؓ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے، بہت حیران ہوئے کہ یہ غصہ کیوں، لیکن سمجھ گئے کہ یہ اس ہدیہ کا اثر ہے۔
حضرت سعدؓ نے کہا کہ شہر میں قیام گاہ پر بعد میں چلیں گے، پہلے روضۂ اقدس پر حاضر ہولیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام عرض کرلیں، چنانچہ سب تشریف لے گئے۔
روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر حضرت سعد ابن عمیرؓ نے سلام کے بعد عرض کیا یا رسول اللہ! میں عمرؓ کی منحوس خلافت میں زندہ نہیں رہنا چاہتا جو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ہاتھوں سے کاٹ دی تھیں عمر پھر وہی پہنانا چاہتا ہے اور پانچ پانچ سو روپے ہدیے کے ہمارے پاس بھیجتا ہے میں اس منحوس دور خلافت میں زندہ نہیں رہنا چاہتا، انہوں نے رو رو کر یہ دعا کی۔
اب حضرت عمرؓ کی باری آئی، انہوں نے دعا کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وقت تک زندہ رہنا چاہتا ہوں جب تک میری حکومت میں سعد بن جبیرؓ جیسے افراد موجود ہیں اور جب یہ نہ رہیں تو میں بھی زندگی نہیں چاہتا، تو مؤرخین لکھتے ہیں کہ چند ہی دن کے بعد سعد بن عمیرؓ کی وفات ہوئی اور ان کے بیس دن کے بعد ہی حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آگیا۔
تودولت پر قابض ہونے کے بعد اور ملکوں پر حکمراں ہونے کے بعد یہ زہد و قناعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اثر تھا۔ (از حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ شمارہ نمبر 24)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

