فضلائے کرام اپنی نیتوں کا جائزہ لیتے رہیں (173)۔
دینی فضلائے کرام کی ایک عمومی روش جس کا میں نے اکثر مشاہدہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ جب کوئی طالب علم اپنی تعلیم مکمل کرتا ہے تو مدرسے کے علمی ماحول اور نظام سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ اُس کی یہ شدید خواہش بن جاتی ہے کہ وہ خود بھی ایک مدرسہ قائم کرے اور اُس کامہتمم بنے۔
یہ خواہش بظاہر علم کی خدمت اور دین کی ترویج کے لیے ہوتی ہے، لیکن کبھی کبھار اس میں دنیاوی عزائم اور ذاتی خواہشات بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً، وہ اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔ اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے ذاتی تعلقات استوار کیے جاتے ہیں، اور کچھ ہی سالوں کی محنت کے بعد وہ اپنا الگ مدرسہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ایک اور طبقہ ان فضلائے کرام کا ایسا ہے جو سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی مسجد مل جائے جہاں رہائش کی سہولت بھی ہو، تو وہ مسجد کے ساتھ وابستہ ہو کر وہاں اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب کی نیت غلط ہوتی ہے، بہت سے مخلص علماء واقعتاً خلوص دل کے ساتھ دین کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ مسجد کو محض ایک معاشی ذریعہ سمجھتے ہیں، اور اس امید میں ہوتے ہیں کہ وہاں کے نمازیوں میں سے کوئی صاحبِ استطاعت فرد ان کی مدد کرے گا۔ اس طرح وہ خدمتِ دین کے بجائے اپنی ذاتی منفعت کو ترجیح دینے لگتے ہیں، جو بالکل غلط سوچ ہے۔یہ روش منبرو محراب اور مسجدومصلیٰ کی پاکیزگی کو مجروح کرتی ہے اور دینی مقامات کی عزت و وقار کو نقصان پہنچاتی ہے۔
دین کا طالب علم جب علم حاصل کرتا ہے تو اُس کی پہلی نیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اوپر اس علم کو نافذ کرےگا اور اپنی زندگی کو اُس علم کے مطابق ڈھالےگا۔ جب علم حاصل کرلے، تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ جڑا رہے اور اُن کی تربیت میں اپنا وقت گزارے۔جو سعادت مند طالب علم ہوتے ہیں وہ اساتذہ سے اپنی تشکیل کرواتے ہیں کیونکہ مدارس کے اساتذہ کے پاس اس طرح کے لوگ رابطہ کرتے ہیں۔ تو کسی استاذ کے واسطے سے جانا اور پھر اُس استاذ کے ساتھ مکمل رابطہ میں رہنا بہت ضروری ہوتاہے۔ بلکہ یہ کتابی علوم کو نورانی علوم میں بدلنے کے لئے ایک آسان راستہ ہوتا ہے۔
اساتذہ کی رہنمائی میں کام کرنے سے نیت میں اخلاص پیدا ہوتا ہے، اور رفتہ رفتہ جب طالب علم پختہ ہوجاتا ہے، تب ہی اُسے اپنے الگ کام کی طرف بڑھنا چاہیے۔فراغت کے فوراً بعد عموماً طبیعت میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ اس لئے ایسے جوش کے حالات میں الگ کام شروع کردینا عجب، خود پسندی اور خود نمائی کی طرف چلا جاتا ہے۔
یاد رکھیں ! عجب (خودپسندی) اور لالچ(حب مال و جاہ) آج کے فضلائے کرام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
کتنے ہی ہونہار، ذہین اور سمجھدارفضلاء ان بیماریوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی نیتوں کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور ہمیشہ اپنے اساتذہ کی رہنمائی کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ ہمارے کاموں میں برکت اور اخلاص شامل ہو۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

