.خیانت سے شروع کیا گیا کاروبار! (122)
کاروبار یعنی تجارت کرنا ایک شاندار اور فضیلت والا عمل ہے، جس میں اکثر لوگ نوکریاں چھوڑ کر اپنی قسمت آزمانے آتے ہیں۔ کامیاب کاروبار شروع کرنے کے بے شمار طریقے ہیں، مگر کچھ ایسے طریقے بھی ہیں جو سراسر غلط ہیں اور جن پر عمل کرکے شروع کیا گیا کاروبار زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔
ان غلط طریقوں میں سے ایک خاص طریقہ بہت عام ہے جو اکثر مشاہدہ میں آتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص کپڑے کی دکان پر آٹھ دس سال تک کام کرتا رہا ہو اور پھر تمام گاہکوں کی تفصیلات کا ریکارڈ بنا کر نوکری چھوڑ دے، اور انہی گاہکوں کو اپنا ذاتی گاہک بنا کر الگ تجارت شروع کر دے۔ یہ طریقہ آج کل بہت عام ہو چکا ہے۔ خاص طور پر سافٹ ویئر ہاؤس، بڑی مارکیٹس، اور ہول سیل ڈیلرز کے پاس کام کرنے والے ملازمین اکثر ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔
بظاہر یہ بڑازبردست طریقہ نظر آتا ہے کہ نئی تجارت کا آغاز بہت سارے گاہکوں کے ساتھ ہوگا، لیکن یہ تجارت ناجائز ہے اور اس میں کبھی بھی برکت حاصل نہیں ہوگی۔ ایسے کاروبار کی عمر چند سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یہ بڑے مؤثر طریقے سے شروع ہوگا اور گاہکوں کی قطار بھی شروعات میں قابل دید ہوگی، مگر چند سال سے زیادہ یہ کاروبار نہیں چل سکے گا کیونکہ جس کی جڑوں میں ہی خیانت کا گھن لگ جائے، وہ درخت کبھی پھلدار نہیں بنے گا۔
اسکے ناجائز ہونے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب کوئی شخص ملازمت اختیار کرتا ہے تو کمپنی کے تمام اثاثے اس کو امانت کے طورے پر دئیے جاتے ہیں۔ مثلاً پین، کاپی، کمپیوٹر، گاڑی یا کوئی بھی چیز جو کمپنی کی طرف سے استعمال کے لیے دی جاتی ہے، وہ ایک مخصوص حد تک استعمال کے قابل ہوتی ہے۔ مخصوص حد سے مراد یہ ہے کہ کمپنی نے جتنی اجازت دی ہے، اس سے بڑھ کر استعمال کرنا خیانت شمار ہوتا ہے، جو کہ حرام ہے۔
سب سے بڑی امانت کمپنی کا ڈیٹا یعنی معاملات اور معلومات کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس میں بھی خیانت ہوتی ہے اور اس کی نقل بنا کر اپنے پاس محفوظ کرنے کو لوگ چوری ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یہ بھی چوری اور دھوکہ بازی ہے۔ کسی بھی کمپنی کی معلومات اس کے ستون کی مانند ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی عمارت کے ایک یا دو ستون اکھاڑ کر لے جائیں گے، تو ممکن ہے کہ وہ عمارت باقی ستونوں پر کھڑی رہے، لیکن یہ یقینی بات ہے کہ یہ اکھاڑی ہوئی چیز آپ کے کسی کام نہیں آئے گی۔ بلکہ اس طرح کی چوری اور غصب سے کھڑی کی ہوئی عمارت جلد ہی گر جائے گی۔
خلاصہ یہ کہ تجارت میں خیانت کرنا نہ صرف شرعی طور پر حرام ہے بلکہ اس کے دنیاوی نتائج بھی نقصان دہ ہونگے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہمیشہ دیانت داری کے ساتھ اپنے کاروبار کا آغاز کریں۔
دوسروں کو تکلیف دے کر اپنی خوشیوں کی امید رکھنے والے نہ بنیں اور امانتوں کی حفاظت کریں تاکہ برکت اور کامیابی حاصل ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امانت داری اور دیانت داری کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

