بقدرِ ضرورت علم کے بعد اصل چیز عمل ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ایک صاحب نے دیوبند میں حضرتؒ سے سوال کیا کہ آپ لوگ( مراد اس سے حضرت گنگوہیؒ ، حضرت نانوتویؒ اور دوسرے اکابر دیوبند سب تھے) بڑے علماء فضلاء ہیں اور آپ سب جاکر حضرت حاجی امداد اللہ صاحبؒ کے مرید ہوئے ۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہاں وہ کیا چیز تھی جس کے لیے آپ حضرات نے ان کی خدمت اختیار کی۔ حضرتؒ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہماری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو سب اقسام کی مٹھائیوں کے نام اور فہرست پوری یاد ہو مگر چکھا ایک کو بھی نہ ہو اور دوسرا کوئی ایسا شخص ہے جس نے سب مٹھائیاں کھائی ہیں مگر نام کسی کا یاد نہیں۔ تو ظاہر ہے کہ جو شخص مٹھائیاں کھا رہا ہے اس کو تو کوئی ضرورت نہیں کہ ان کے نام معلوم کرنے کے لیے کسی کے پاس جائے مگر جس کو صرف نام اور الفاظ یاد ہوں وہ اس کا محتاج ہے کہ صاحب ِ ذوق کی خدمت میں جائے اور ان مٹھائیوں کا ذوق حاصل کرے‘‘۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۳۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

