بیعت نفع کا موقوف علیہ بھی نہیں ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بیعت ہونا کچھ ضروری نہیں۔ آج کل لوگوں نے بیعت کو موقوف علیہ نفع کا بلکہ بعض نے خود اسی کو مقصود بالذات قرار دے رکھا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ ہم تم کو بیعت کئے لیتے ہیں مگر تعلیم کچھ نہ کریں گے تو وہ راضی ہوجائے گا اور اگر اس کا عکس (برخلاف) کہا جائے تو راضی نہ ہوں گے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۳۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

