شیخ کامل کے فرائض
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ شیخ وہ ہے جس میں انبیاء کا سا دین ہو، اطباء کی سی تدبیر ہو، بادشاہوں کی سی سیاست ہو۔ اور انبیاء کا سا دین جو فرمایا ! کمال میں تشبیہ مقصود نہیں بلکہ وہ تشبیہ اس دین میں دنیوی غرض نہ ملنا ہے یعنی مریدین سے دنیوی اغراض نہ رکھتا ہو ورنہ ایسا شخص روک ٹوک معاقبہ محاسبہ مواخذہ مطالبہ داروگیر نہیں کرسکتا ۔ اور اطباء کی سی تدابیر کے یہ معنی ہیں کہ جیسے طبیب ِ جسمانی امراض کی تشخیص اور ہر مرض اور ہر مریض کے لیے جدا تدبیر کرتا ہے اسی طرح شیخ کو حالات کی تشخیص اور ہر حالت کے لیے جدا تدبیر کرنا چاہیے۔ اور بادشاہوں کی سی سیاست کے یہ معنی ہیں کہ وہ مریدین کی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ روک ٹوک محاسبہ معاقبہ مواخذہ داروگیر کرتا ہو۔ یہ سب شیخ کے فرائض میں سے ہے ، اگر شیخ ایسا نہیں کرتا تو وہ شیخ نہیں خائن ہے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۲۹)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

