اصلاح نہ کرنا خیانت ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نہ مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ اوروں سے مجھے اور ایک یہ چاہتا ہوں کہ جب دعویٰ محبت کا لے کر آتے ہیں ، اس کا حق ادا کریں ۔میرے بدنام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اور مشائخ اور پیروں نے تو قسم کھا لی ہے کہ کچھ نہ کہا جائے اور میں کہتا ہوں ۔ ان کے (یعنی طالبینِ اصلاح کے)کانوں کے کیڑے یہیں آ کر جھڑتے ہیں ، ان بیچاروں کو کسی نے نہیں بتلایا اس لیے بیہودہ رسمیں عام ہو گئی ہیں اور میں بھی کچھ نہ کہتا مگر دو وجہ سے کہنا پڑتا ہے ۔ ایک تو میں اپنی وجہ سے کہتا ہوں کہ مجھ کو پریشان نہ کریں اور دوسرے ان کے دین کی وجہ سے کہتا ہوں کہ اگر ایسا نہ کیا تو اصلاح کیسے ہوگی ۔ نہ کہنے اور خاموش رہنے کو میں خیانت سمجھتا ہوں ۔ آخر کیا وجہ کہ نہ کہا جائے، آخر ہم ہیں کس مرض کی دوا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۹۴)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

