عوام ٹیکس کیوں نہیں دیتی؟ (81)۔

عوام ٹیکس کیوں نہیں دیتی؟ (81)۔

پاکستان میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے اور مختلف قسم کی دھمکی آمیز باتیں سننے کو مل رہی ہیں مثلاً موبائل سم کا بند ہوجانا، بیرون ملک جانے پر پابندی لگ جانا اور بینک اکاؤنٹس پر انجماد لگ جاناوغیرہ۔
لیکن عوام کی صورتحال یہ ہے کہ ٹیکس کو ظلم سمجھتی ہے اور حکومت کی طرف سے لگائے گئے ٹیکس نہ دینے کو ثواب سمجھتی ہے۔ اگر عوام کی یہ غلط فہمی دور کردی جائے اور اُسکو یہ احساس دلایا جائے کہ تمہارے ٹیکس سے یہ ملک ترقی کرے گا اور تم اپنے وطن کو بہتر بنا سکو گے تو پھر کیونکر لوگ ٹیکس دینے سے گریز کریں گے؟
اب رہا یہ سوال کہ عوام کیوںاسکو ظلم سمجھتی ہے ؟
اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں تو اُسکا ثمرہ(جیسا کہ پوری دنیا میں رائج ہے کہ)یہ ملنا چاہئے کہ بنیادی ضروریات حکومت پوری کرے اور اچھے طریقے سے پوری کرے۔ ابھی آج کا ہی ایک واقعہ ہے کہ سرکاری ہسپتال میں علاج کے لئے گئے تو اُنہوں نے مریض کو دو گھنٹے علاج کروایا اور پھر ساتھ آنے والے صاحب کو کہہ دیا کہ یہاں پر نہیں ہوگا بلکہ آپ کسی اور ہسپتال چلے جائیں۔ مریض نے کہامیں مزید بھی یہیں انتظار کرسکتا ہوں لیکن اس کڑکتی دھوپ میں اور کسی جگہ جانے کی ہمت نہیں پھر ایک سفارش سے کام بن گیا اور ہسپتال میں جگہ مل گئی۔
یہ صرف آج کی تازہ صورتحال تھی تو مثال میں شامل کردی ورنہ ہر بندہ کے پاس اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں کہ حکومت ٹیکس لینے میں تو جبری کارروائی کرسکتی ہے مگر حکومتی ادارے یعنی اسکول، ہسپتال اور دیگر ادارے اپنی کارکردگی میں صفر سے بھی نیچے رہتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں روپیہ ٹیکس دینے والا شخص بھی وہاں پر کوئی سہولت حاصل نہیں کرسکتا۔ تو ٹیکس دینے والا اسکو یقیناً ظلم ہی سمجھے گاکہ میں پیسے تو دے رہا ہوں مگر میرا پیسہ کسی کنویں میں جارہاہے۔
دوسری سب سے بڑی وجہ حکومت کے وہ اخراجات ہیں جو بالکل اضافی، غیر معقول اور فضولیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مثلاً مملکت جب خسارہ میں جا رہی ہو تب بھی سیاستدانوں کا پروٹوکول اپنے عروج پر رہے اور مختلف اداروں کی شاہ خرچیوں میں اضافہ ہوتا رہے تو پھر ان حرام مصارف کے لئے عوام پیسے کیوں دےگی؟
توان دووجوہات کواگرفوری طورپرحل کر دیا جائے تو قوی امید ہے کہ بغیر دھمکیوں کے بھی لوگ ٹیکس دینا شروع کردینگے۔ ورنہ اگر جبری طور پر ٹیکس وصول کیا گیا تو صرف اتنا نقصان ہوگا کہ حکومت کے خزانہ میں حرام مال جمع ہوتا رہے گا(کیونکہ طیب نفس کے بغیر کسی کا مال لینا حرام ہے)اور حرام مال کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر ضرورت سے زیادہ بھی مل جائے تب بھی ناکافی رہتا ہے اور حرام مال ہمیشہ حرام مصارف پر ہی جا کر خرچ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے کوئی بھی نیک کام، امن کا قیام یا پھر نفاذ اسلام ممکن نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more