ایسی تدبیر جس سے سفر حج کی اور وہاں کی تکلیفوں کا احساس نہ ہو
ارشاد فرمایا کہ اگر پہلے ہی سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سفر آخرت کا سفر ہے پھر کوئی کلفت معلوم نہ ہو۔ اور واقعی یہ سفر سفرِ آخرت کے مشابہ ہے کہ اپنے گھر بار زمین جائداد وغیرہ کو چھوڑ کر اقرباء(اور گھر والوں)سے رخصت ہوکر جاتا ہے اور تھوڑا سا سامان ساتھ لے لیتا ہے جیسا کہ مردہ سب سامان چھوڑ کر صرف کفن ساتھ لے جاتا ہے تو اگر پہلے ہی سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سفر آخرت کا سفر ہے پھر کوئی کلفت معلوم نہ ہو۔ مگر آج کل تو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جیسے گھر میں آرام کے ساتھ بسر کرتے ہیں ویسے ہی حج کے سفر میں رہیں حالانکہ سفر میں کچھ مشقت اور تکلیف کا ہونا ضروری ہے۔دل میں اگر شوق اور محبت ہو تو پھر کوئی بھی تکلیف تکلیف نہیں رہتی ۔ اور جہاں بیت اللہ پر ایک نظر پڑی اسی وقت سب تکلیف ختم ہوجاتی ہے ۔ اس وقت یاد بھی نہیں آتا کہ اس سے پہلے کیا کیا پیش آیا تھا ۔ بس وہ حال ہوتا ہے جو جنت میں پہنچ کر جنتیوں کا ہوگا:
الحمدللہ الذی اذھب عناالحزن ان ربنا لغفور شکور الذی احلنا دارالمقامۃ من فضلہ لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب(پ۲۲)
یعنی جنتی جنت میں پہنچ کر کہیں گے کہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ جس نے ہم کو اپنے فضل سے ٹھکانے کے لئے گھر میں پہنچا دیا جس میں نہ ہم کو کوئی مشقت معلوم ہوتی ہے ، نہ کچھ تھکن معلوم ہوتی ہے۔ یہی حال بیت اللہ کو دیکھ کر اہلِ شوق کا ہوتا ہے۔ (امدادالحجاج ،صفحہ ۸۵)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات جو حج سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

