وعدے کی دو قسمیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض واعظین کہہ دیا کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ رزق فرمایا ہے:۔
وما من دابة في الارض الا على الله رزقها
تو پھر لوگ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا اس آیت پر ایمان نہیں ہے۔ یادرکھو! یہ الزام بھی محض غلط ہے کہ اس آیت پر مسلمانوں کا ایمان نہیں ہے۔ ضرور سب کا ایمان ہے اور باوجود ایمان ہونے کے پریشانی بھی اس کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے کیونکہ وعدے دو قسم کے ہیں ، ایک مبہم اور ایک معین(مقرر) ۔ اللہ تعالیٰ نے مبہم وعدہ فرمایا ہے کہ رزق ملے گا لیکن یہ نہیں فرمایا کہ کب ملے گا اور کہاں سے ملے گا اور کس طریق سے ملے گا اور کتنا ملے گا تو یہ پریشانی بوجہ ابہام( صاف بات نہ ہونے کے سبب) ہے اور ساتھ ہی اس وعدے پر پورا یقین ہے کہ وقتِ مقرر پر ضرور ملے گا۔ بعض واعظین اس الزام کے مؤکد کرنے کے لیے مثال دیا کرتے ہیں کہ اگر کوئی دوست دعوت کرے تو اطمینان ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اطمینان نہیں۔ یہ بھی غلط ہے اور خواہ مخواہ
مسلمانوں کو کافر بنانا ہے۔ واللہ العظیم اگر حق تعالیٰ کے کلام میں معین وعدہ ہوتا تو ہرگز ہرگز کسی کو پریشانی نہیں ہوتی۔ اگر دعوت میں مبہم کہہ دیا جائے اور وقت نہ معین کیا جائے تو وہاں بھی اطمینان نہ ہوگا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

