مہر کے سلسلہ میں عام رجحان
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ اکثر لوگ مہر دینے کا ارادہ ہی دل میں نہیں رکھتے۔ پھر خواہ بیوی بھی وصول کرنے کا ارادہ نہ کرے اور خواہ طلاق یا موت کے بعد اس کے ورثاء وصول کرنے کی کوشش کریں یا نہ کریں لیکن ہر حال میں شوہر کی نیت ادا کی نہیں ہوتی۔ لوگوں کی نگاہ میں یہ نہایت سرسری معاملہ ہے حتی کہ مہر کی قلت وکثرت میں گفتگو کے وقت بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کہ میاں کون لیتا ہے، کون دیتا ہے۔ یہ لوگ صریح اقرار کرتے ہیں کہ مہر محض نام ہی کرنے کو ہوتا ہے، دینے لینے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ مہر کو سرسری سمجھنا اور ادا کی نیت نہ رکھنا اتنی بڑی سخت بات ہے کہ حدیث شریف میں اس پر بہت ہی وعید آئی ہے۔ کنز العمال اور بیہقی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کا کچھ مہر ٹھہرائے، پھر یہ نیت رکھے کہ اس کے مہر میں سے کچھ اس کو نہ دے گا یا اس کو پورا نہ دے گا تو وہ زانی ہو کر مرے گا اور اللہ تعالیٰ سے زانی ہو کر ملے گا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

