بچپن میں شادی کردینے کی خرابیاں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ایک کوتاہی بعض لوگوں میں یہ ہے کہ بہت تھوڑی عمر میں شادی کردیتے ہیں، جس وقت ان متناكحين (لڑکالڑکی) کو کچھ تمیز بھی نہیں ہوتی کہ نکاح کیا چیز ہے، اور اس کے کیا حقوق ہوتے ہیں، اس میں بہت سی خرابیاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لڑکا نالائق نکلتا ہے جس کو منکوحہ سیانی ہوکر یا لڑکی کے اولیاء پسند نہیں کرتے۔ اب فکر ہوتی ہے تفریق کی، کوئی مسئلہ پوچھتا ہے، کوئی بے مسئلہ پوچھے ہی دوسری جگہ نکاح کردیتا ہے۔ اور لڑکا ہے کہ براہِ سرکشی نہ اس کے حقوق ادا کرتا ہے، نہ اس کو طلاق دیتا ہے، غرض ایک بلا اور لاعلاج مصیبت ہو گئی۔ بعض جگہ کم سنی میں نکاح کرنے سے یہ ہوا کہ جوان ہونے کے بعد وہ لڑکی اس لڑکے کو پسند نہیں، وہ اپنے لیے کہیں اور تلاش کرلیتا ہے، اور اس کی نہ خبر گیری کرتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور عذر کردیتا ہے کہ مجھ کو خبر ہی نہیں کہ میرا نکاح کب ہوا؟ جنہوں نے نکاح کیا وہ ذمہ دار ہیں اور طلاق دینے کو عرفاً عار سمجھتا ہے۔ بعض اوقات دونوں بچپن میں ایک جگہ کھیلتے اور لڑتے ہیں جس کا اثر بعض جگہ یہ ہوتا ہے کہ آپس میں نفرت اور بغض پیدا ہوجاتا ہے اور چونکہ شروع ہی سے دونوں ساتھ رہے ہیں اس لیے شوہر کو کوئی خاص میلان کیفیتِ شوقیہ کے ساتھ نہیں ہوتا جیسا کہ بالغ ہونے کے بعد نئی بیوی کے ملنے سے ہوتا ہے اور اس کا ثمرہ بھی ہر طرح برا ہی ہے۔ کیا ان خرابیوں سے بچنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں؟
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

