چندہ میں بے عنوانی
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ آج کل چندوں کے جمع کرنے میں اس قدر بے عنوانیاں ہوتی ہیں جس سے اکثر چندے ناجائز ہوجاتے ہیں۔ اکثر مدارس کے چندوں میں بھی اس کا خیال نہیں کیا جاتا اور پھر اپنی اس حرکت پر فخر کیا جاتا ہے کہ ہم نے خوب خوب کوشش کی۔ کوشش یہ کہ خوب چمٹ کر وصول کیا، اور بڑے خوش ہوتے ہیں کہ ہم دین کے کاموں میں کوشش کر کے خدا کے مقرب ہوگئے۔ صاحبو! خدا تعالیٰ نے کب کہا تھا کہ تم لوگوں کو چمٹ کر اور پریشان کرکے وصول کرنا اور ہمارے حکموں کو چھوڑ دینا۔ بعض لوگ اس کے جواب میں کہا کرتے ہیں کہ صاحب ! ہم نے اپنے لیے تو کچھ نہیں کیا، اللہ کے کام کے لیے کیا۔ صاحبو! یہ عذرِ گناه بدتر از گناہ ہے، اپنے لیے کرتے تو خیر کچھ تو ملتا، دنیا ہی سہی اور اب تو سوائے گناہ کے کچھ بھی نہ ملا، اور یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے جو محض دین کا کام سمجھ کر کرتے ہیں، اور جو لوگ اپنے نفس کی کسی غرض کے حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں ان کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

