مدارس کے چندہ دہندگان کو مشورہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ چندہ دینے والوں کے لیے دو باتیں ہیں جوکہ خیال رکھنے کے قابل ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی وسعت سے زیادہ مت دو اور خواہ تھوڑا دو مگر نباہ دو ۔ *أحب الأعمال الى الله أدومها وان قل* یعنی اللہ تعالیٰ کو وہ عمل محبوب ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ قلیل ہو۔ دوسرے یہ کہ چندہ دے کر مدرسے کو اپنی ملکیت مت سمجھو اور مہتممین کی رائے میں دخل مت دو۔ آج کل یہ مرض بکثرت ہو گیا ہے کہ کہ ذرا سا چندہ دے کر حکومت کرتے ہیں۔ ایک پیسہ بھی جس کا مدرسے میں شامل ہے وہ مدرسے کے ہر کام میں دخل دینے کو تیار ہے اور اپنی ہی ہر رائے کو ترجیح دینا چاہتا ہے اور اگر بلا ان کی رائے کوئی انتظام کرلیا جائے تو چندہ بند کر لیتے ہیں۔ بعض لوگوں کی تو یہاں تک عادت ہے کہ خواہ مخواہ اعتراض کیا کرتے ہیں، خود کوئی تدبیر اصلاح کی نہیں کرتے اور دوسروں کی تجویزوں میں عیب چھانٹا کرتے ہیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

