تعلیمِ کتبِ دینیہ پر گزارے سے زیادہ تنخواہ لینا جائز ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ایک مولوی صاحب نے دریافت کیا کہ تعلیمِ کتبِ دینیہ پر گزارے کی ضرورت سے زیادہ اجرت لینا جائز ہے؟ اس پر فرمایا کہ ہاں جائز ہے، خصوصاً اس زمانے میں کیونکہ مباشرتِ اسباب طبعاً قناعت اور اطمینان کے حصول کا سبب ہے ، اور بوجہ ضعفِ طبائع آج کل یہ قناعت اور اطمینان بڑی نعمت ہے۔ باقی یہ کہ ضرورت سے زیادہ کیسے اجازت ہوگی؟ سو ضرورت دو قسم کی ہے۔ ا۔ حالی۔ ۲۔مالی ، پس بعض مصالح کے سبب تو بلاضرورت بھی ایسے ابواب کا قبول کرلینا مستحسن قرار دیا گیا، چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے رزقِ قاضی کے قبول کرنے میں خاص مصلحت بیان کی ہے۔ یہی مصلحت مدرسی کی تنخواہ لینے میں بھی ہے کہ سلسلہ جاری رہنے سے اہلِ اعانت کی عادت رہے گی، نیز اس سے انکار کرنے میں در پردہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بالکل جائز ہے اور اگر اس میں طمع کا شبہ ہو تو اتنی طمع بھی جائز ہے ۔
چون طمع خواہد زمن سلطان دیں
خاک بر سر قناعت بعد ازیں
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

