توبہ میں غلو کی ممانعت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ایک صاحب کا خط آیا کہ آنکھ کھلنے کی سہل تدبیر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ الارم یا کسی آدمی کا جگا دینا۔ اور اس خط میں سوتے رہنے پر سائل نے اظہارِ افسوس کیا تھا اور لکھا تھا کہ بسببِ مرض وغیرہ کے ایسا ہوتا ہے کہ نماز بھی قضا ہو جاتی ہے۔ فرمایا کہ پھر اس پر قلق (افسوس) کیوں کر رہے ہو ، جب یہ اختیار سے باہر ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ سنن باطنہ ہے ، ان کا لوگ خیال ہی نہیں کرتے۔ بس جہاں رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ قلق کرو وہاں قلق کرو ، جہاں فرمایا ہے قلق نہ کرو وہاں نہ کرو۔ انسان مطالعہ محبوب کے لیے پیدا ہوا ہے نہ کہ اس ادھیڑ بن کے لیے۔ جب کوئی گناہ ہو جاوے ، شرعی طور پر تدارک کرلے، توبہ کرلے مگر ہر وقت اس میں نہ لگ جائے کہ ہائے یہ کیوں ہوگیا تھا اور کہیں پھر نہ ہو جائے۔ البتہ توبہ نصوح (سچی، پکی توبہ) کے بعد اگر از خود وہ گناہ پھر یاد آجاوے تو تجدید توبہ کی کرکے پھر کام میں لگ جاوے۔اس سے زیادہ کاوش کرنا غلو ہے اور یہ قصد کرنا کہ ذرا بھی کوتاہی نہ ہونے پاوے، یہ ایک قسم کا دعویٰ اور غلو ہے اور گو عقلاً محال نہیں لیکن عادتاً محال ہے ورنہ پھر حدیث شریف میں یہ کیوں آتا کہ *سددو او قاربوا* ، یعنی میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے راستے پر رہو) اور *استقيموا ولن تحصوا* ( یعنی راه استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہ نہیں کرسکو گے)۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

