مرتے وقت کلمہ کفر کہنے والے کا حکم
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان مرتے ہوئے کلمہ کفر کہتا ہوا جائے، جب بھی کفر کا حکم مشکل ہے۔ فقہاء نے اس کا راز سمجھا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ مرتے ہوئے کسی کے منہ سے کلمہ کفر نکل جائے تو اس کو کافر نہ کہو کیونکہ ممکن ہے شاید نزع کی وجہ سے اس کی عقل درست نہ ہو اور بیہوشی کی غفلت میں یہ کلمہ زبان سے نکالا ہو اور شریعت میں ایسا شخص مکلف نہیں رہتا۔ بیہوشی میں جو فعل و قول بھی صادر ہو شرعاً معاف ہے، یا ممکن ہے کوئی ہوش ہی میں کلمہ کفر کہہ رہا ہو مگر اس کا مطلب وہ نہ ہو جو تم سمجھے بلکہ کچھ اور مطلب ہو، پھر اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے حکمِ کفر کیونکر لگایا جاسکتا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

