حیا و شرم کا تحفظ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ہمارے یہاں ایک رسم یہ بھی ہے اور مجھے پسند ہے کہ لڑکیوں کا مردوں سے تو پردہ ہوتا ہی ہے، غیر عورتوں سے بھی ان کا پردہ کرایا جاتا ہے، چنانچہ نائن یا دھوبن وغیرہ جہاں گھر میں آئی اور سیائی لڑکیاں فوراً پردہ میں ہو گئیں۔ اس طریقہ سے ان میں حیا و شرم پوری طرح پیدا ہو جاتی ہے، بیباکی ودیدہ چشمی نہیں ہونے پاتی ۔ پہلے لوگوں نے اس قسم کی بعض حکمت کی باتیں ایجاد کی تھیں سو واقعی ان میں بڑی مصلحت ہے، گو بعضی فخر کی باتیں ہیں ان کو مٹانا چاہئے لیکن یہ حکمت کی باتیں دستور العمل بنانے کے قابل ہیں اور جہاں ان پر عمل ہے وہاں کی لڑکیاں عموماً حیادار اور عفیف ( پاکدامن ) اور خاوند کی تابعدار ہوتی ہیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

