دعوت وتبلیغ میں نرمی و آسانی اور مخاطب کے موقع محل کی رعایت ضروری ہے
ملفوظات حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ہمیشہ وعظ میں میری عادت رہی ہے کہ کتنی ہی بڑی بات اور لوگوں کے مذاق کے خلاف ہو مگر عنوان نہایت نرم اور حتی الامکان ایسا رکھتا ہوں کہ دل قبول کرلے ،لوگوں کو وحشت نہ ہو، نفرت نہ ہو، دل آزار الفاظ سے ہمیشہ اجتناب رکھتا ہوں۔ مخالفین کے جواب میں ہمیشہ یہی معمول رہا ہے اور نفع اسی سے ہوتا ہے۔ نیز فرمایا کہ اہل تربیت کو کبھی سخت تعلیم نہ کریں۔ اگر کسی جگہ سختی کی ضرورت بھی ہوتو عنوان اس کا نرم ہونا چاہئے ۔ اس میں راز وہی ہے کہ طالب (یعنی مخاطب ) کو وحشت نہ ہوجائے اور اس کو گراں ( دشوار ) سمجھ کر اصل کام سے بھی نہ رہ جائے ۔ اتنی تنگی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ اس کو ناقابل عمل سمجھ لے۔ میں بعض دوستوں کو مستحبات کی تاکید نہیں کرتا، اس وجہ سے کہ وہ کہیں تنگ ہو کر ضروریات سے بھی نہ رہ جائیں۔ اس واسطے میں کہتا ہوں کہ موقع محل اور مخاطب کے حالات کی رعایت کرنا نہایت ضروری ہے ۔ بعض لوگ سختی کرتے ہیں اور طالبین کو مشکلات میں ڈالتے ہیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

