حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کا نمونہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ حضور ﷺ کے اصحاب یہودی پڑوسی تک کو ہدیہ دیا کرتے تھے اور بیماری میں اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ ایک یہودی کا قرض حضور ﷺ پر آتا تھا۔ اس نے مسجد میں آکر مانگا، اس وقت آپ کے پاس موجود نہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر لے لینا۔ یہودی نے کہا کہ میں تو لے کر جاؤں گا ۔ اللہ اکبر! کس درجہ حسن معاشرت تھی کہ رعیت کا ادنیٰ آدمی بھی جو چاہے کہے اور آپ باوجود ہر طرح قدرت و اختیار کے انتقام نہیں لیتے۔ صحابہ نے کچھ کہنا بھی چاہا تو حضور ﷺ نے روک دیا اور فرمایا کہ دعوه فان لصاحب الحق مقالا کہ صاحبِ حق کو تقاضے کا حق ہے۔ چنانچہ وہ بیٹھا رہا اور رات کو حضور ﷺ کوگھر بھی نہ جانے دیا تو آپ مسجد ہی میں رہے، صبح کو نماز پڑھی۔ یہ حال دیکھ کر نماز کے بعد اس یہودی نے کہا کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ نبی آخر الزماں کے یہ یہ صفات ہیں ۔ میں نے اور تو سب صفات دیکھ لی تھیں ، صرف صفتِ حلم ( بردباری و تحمل ) کا امتحان باقی تھا، سو آج اس کا بھی امتحان ہوگیا ، واقعی آپ سچے نبی ہیں کلمہ پڑھا اور مسلمان ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غیر مسلم کی اس قدر رعایت کی ہے تو مسلمان کی کس درجہ رعایت فرماتے ہوں گے ۔ پھر غیر مسلم تو آدمی ہے، حضور ﷺ نے جانوروں پر بھی رحم کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ان کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں کہ جانوروں کو زیادہ نہ مارو بھوکا نہ رکھو تحمل سے زیادہ کام نہ لو، زیادہ بوجھ نہ لا دو۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

