تصوف سراسر ادب کا نام ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ طلبِ طريقِ تصوف کو چاہئے کہ ادب ظاہری و باطنی کو نگاہ میں رکھے۔ ادبِ ظاہر یہ ہے کہ خلق کے ساتھ بحسنِ ادب و کمال تواضع و اخلاق پیش آوے اور ادبِ باطنی یہ ہے کہ تمام اوقات و احوال و مقامات باحق سبحانہ رہے۔ حسنِ ادبِ ظاہر سرنامہ باطن کا ہے اور حسنِ ادب ترجمان عقل کا ہے بلکہ التصوف كله ادب یعنی تصوف سراسر ادب ہے۔ دیکھو حق تعالیٰ اہل ادب کی بزرگی کی مدح فرماتا ہے۔ جو کوئی کہ ادب سے محروم ہے وہ تمام خیر و برکات سے محروم ہے اور جو کہ محروم از ادب ہے وہ قربِ حق سے بھی محروم ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

