اللہ کا ذکر کرنے کا طریقہ
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ذکر اللہ یعنی جس قدر ہوسکے اللہ کا نام لیتے رہنا، نہ اس میں کسی گنتی کی قید ہے اور نہ وقت کی اور نہ تسبیح رکھنے کی نہ پکار کر پڑھنے کی ، نہ وضو کی ، نہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ، نہ کسی خاص جگہ کی ، نہ ایک جگہ بیٹھنے کی۔ ہر طرح سے آزادی اور اختیار ہے البتہ اگر کوئی خوشی سے تسبیح پر پڑھنا چاہے خواہ گنتی یاد رکھنے کے لئے یا اس لئے کہ تسبیح ہاتھ میں ہونے سے پڑھنے کا خیال آجاتا ہے، خالی ہاتھ یاد نہیں رہتا تو اس مصلحت کے لئے تسبیح رکھنا بھی جائز بلکہ بہتر ہے۔ اور یہ خیال نہ کرے کہ تسبیح رکھنے سے دکھلاوا ہو جائے گا ، دکھلاوا تو نیت سے ہوتا ہے یعنی جب یہ نیت ہو کہ دیکھنے والے مجھے کو بزرگ سمجھیں گے اور اگر یہ نیت نہ ہو تو دکھلاوا نہیں ۔ اسے دکھلاوا سمجھنا اور اس خیال سے ذکر چھوڑنا شیطان کا دھوکہ ہے۔ وہ اس طرح بہکا کر ثواب سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ اور شیطان ایک دھوکہ یہ بھی دیتا ہے کہ جب تم دنیا کے کام میں پھنسے رہے اور زبان سے اللہ کا نام لیتے رہے تو اس سے کیا فائدہ؟ سو خوب سمجھ لو کہ یہ بھی غلطی ہے۔ جب دل سے ایک دفعہ یہ نیت کرلی کہ ہم ثواب کے واسطے اللہ کا نام لینا شروع کرتے ہیں ، اس کے بعد اگر دل دوسری طرف ہو جائے مگر نیت نہ بدلے تو برابر ثواب ملتا رہے گا۔ البتہ جو وقت اور کاموں سے خالی ہو اس میں دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھنے کی بھی کوشش کرے۔ فضول قصوں کی طرف خیال نہ لے جائے تاکہ اور زیادہ ثواب ہو۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

