طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قوت والا مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کم قوت والے مومن سے بہتر اور زیادہ پیارا ہے اور یوں سب میں خوبی ہے۔ (مسلم)
جب قوت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی پیاری چیز ہے تو اس کا باقی رکھنا اور بڑھانا اور جو چیزیں قوت کم کرنے والی ہیں ان سے احتیاط رکھنا یہ سب مطلوب ہوگا۔ اس میں غذا کا بہت کم کر دینا، نیند کا بہت کم کر دینا ، ہم بستری میں حد قوت سے آگے زیادتی کرنا ، ایسی چیز کھانا جس سے بیماری ہو جاوے یا بدپرہیزی کرنا جس سے بیماری بڑھ جاوے یا جلدی نہ جاوے یہ سب داخل ہوگئے ، ان سب سے بچنا چاہئے۔ اس طرح قوت بڑھانے میں ورزش کرنا ، دوڑنا ، پیادہ (پیدل) چلنے کی عادت کرنا ، جن اسلحہ کی قانون سے اجازت ہے یا اجازت حاصل ہوسکتی ہے، اس کی مشق کرنا یہ سب داخل ہے مگر حد شرع اور حد قانون سے باہر نہ ہونا چاہئے کہ اس سے جمعیت و راحت جو کہ شرعاً مطلوب ہے برباد ہوتی ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

