سحر، تعویذ، گنڈے کی تعریف اور ان کا شرعی حکم
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
سحر (جادو) کے کفر یا فسق ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس میں کلمات کفریہ ہوں مثلاً شیاطین یا کواکب (ستاروں) وغیرہ سے استعانت (مدد حاصل کرنا ) ہوتب تو کفر ہے، خواہ اس سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے یا نفع پہنچایا جائے۔ اور اگر مباح کلمات (یعنی جائز کلمات ) ہوں تو اگر کسی کو شرعی اجازت کے خلاف کسی قسم کا نقصان پہنچایا جائے اور کسی نا جائز غرض میں استعمال کیا جائے تو فسق اور معصیت ہے۔ اور اگر نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ کسی ناجائز غرض میں استعمال کیا جائے تو اس کو عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عمل یا عزیمت یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں اور یہ مباح ہے۔
اور اگر ( اس عمل کے ) کلمات مفہوم نہ ہوں (یعنی اس کا ترجمہ و مطلب معلوم نہ ہو ) تو کفر کا احتمال ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا واجب ہے اور یہی تفصیل تمام تعویذ گنڈوں وغیرہ میں ہے کہ غیرمفہوم نہ ہوں (یعنی ان کا مطلب و ترجمہ معلوم ہو ) ، غیر مشروع نہ ہوں (یعنی شرعاً جائز ہوں ) اور نا جائز غرض میں استعمال نہ ہوں۔ اتنی شرطوں سے جائز ورنہ ناجائز ۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

