قلب کا ستیاناس کرنے والی دو چیز یں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ آج کل لوگوں کو گناہوں پر بڑی دلیری ہے جو نہایت ہی خطرناک بات ہے ۔ بعض گناہوں وہ ہیں جن میں لوگوں کا زیادہ ابتلاء ہے اور ان کو ہلکا سمجھتے ہیں مثلا بد نگاہی ہے۔اس میں عوام تو کیا خواص تک کوابتلاء ہے ۔ یہاں خواص سے مراد جاہل درویش اور مدعیانِ محبت رسول ہیں جو بدعات کے حامی ہیں اور مولودِ مروجہ کی مجالس میں امرد لڑ کوں کو ساتھ رکھتے ہیں ۔ معلوم بھی ہے کہ یہ مرض کتنا بڑا مہلک ہے اور خدا کے قہر اور غصہ کو بھڑکانے والا ہے۔یہ بدنگاہی نہایت ہی سخت اور خبیث فعل ہے۔
ایک شخص نے کسی بزرگ کوان کے انتقال کے بعد خواب میں دیکھا ۔ پوچھا کیا حال ہے ۔ کہا کہ حق تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس جس گناہ کا اقرار کرلو گے ہم اس کو معاف کر دیں گے ۔ میں نے سب گناہوں کا اقرار کرلیا مگر ایک گناہ کا اقرار کرتے ہوئے شرم آئی اس لئے وہ اب تک معاف نہیں ہوا ۔ وہ گناہ یہ ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ایک امرد لڑکے کو بد نگاہ سے دیکھ لیا تھا ، بس اس کا اقرار کرنا میرے لئے مشکل ہورہا ہے اس لئے کہ اس خبیث گناہ کا اقرار خدا کے سامنے کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہے ۔ ہمت نہیں کس منہ سے اقرار کروں کہ میں نے یہ گناہ کیا ہے ۔ بس اس کے عذاب میں مبتلا ہوں اور یہ عقوبت اور عذاب میرے لئے سہل ہے اس سے کہ میں حق سبحانہ تعالی کے سامنے اس گناہ بد نگاہی کا اقرار کروں ۔ واقعی یہ بدنگاہی ایسی ہی سخت بلا ہے ۔ اہل فن نے لکھا ہے کہ دو چیزیں قلب کا ستیاناس کرنے والی ہیں اور نورانیت کو بربادکر نے والی ہیں ۔ایک غیبت اور ایک بدنگاہی مگر یہ ہی دونوں چیزیں آج کل لوگوں میں شیر وشکر بنی ہوئی ہیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

