جھگڑے کس طرح ختم ہوں؟

جھگڑے کس طرح ختم ہوں؟

اس بارہ میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒ کا ایک ملفوظ آپ حضرات کو سناتا ہوں، جو بڑا زریں اصول ہے اگر انسان اس اصول پر عمل کر لے تو امید ہے کہ پچھّتر فیصد جھگڑے تو وہیں ختم ہو جائیں۔

چنانچہ فرمایاکہ: ’’ایک کام یہ کر لو کہ دنیا والوں سے امید باندھنا چھوڑ دو، جب امید چھو ڑ دو گے تو ان شاء اللہ پھر دل میں کبھی بغض اور جھگڑے کا خیال نہیں آئیگا‘‘۔ لوگوں سے جو شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں، مثلاً یہ کہ فلاں شخص کو ایسا کرنا چاہیے تھا، اس نے نہیں کیا، جیسی میری عزت کرنی چاہیے تھی، اس نے ایسی عزت نہیں کی، جیسی میری خاطر مدارات کرنی چاہیے تھی، اس نے ویسی نہیں کی، یا فلاں شخص کیساتھ میں نے فلاں احسان کیا تھا، اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ شکایتیں اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ دوسروں سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، اور جب وہ توقع پوری نہیں ہوئی تو اس کے نتیجے میں د ل میں گرہ پڑ گئی کہ ا س نے میرے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا اور دل میں شکایت پیدا ہوگئی۔

ایسے موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت پیدا ہو جائے تو اس سے جا کر کہہ دو کہ مجھے تم سے یہ شکایت ہے، تمہاری یہ بات مجھے اچھی نہیں لگی، مجھے بری لگی ہے، پسند نہیں آئی، یہ کہہ کر اپنا دل صاف کر لو۔

لیکن آج کل بات کہہ کر دل صاف کرنے کا دستور ختم ہوگیا، بلکہ اب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس بات کو اور شکایت کو دل میں لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد کسی اور موقع پر کوئی اور بات پیش آگئی، ایک گرہ اور پڑ گئی، چنانچہ آہستہ آہستہ دل میں گرھیں پڑتی چلی جاتی ہیں، وہ پھر بغض کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور بغض کے نتیجے میں آپس میں دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/


Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more