یتیم … نگاہ نبوت میں

یتیم … نگاہ نبوت میں

مشہور روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام عید کے دن گھر سے مسجد کی طرف تشریف لانے لگے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں کو کھیلتے دیکھا انہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے، بچوں نے سلام عرض کیا تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب ارشاد فرمایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے، تو ایک بچے کو خاموشی کے ساتھ اداس بیٹھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے، کہ تم اداس اور پریشان نظر آرہے ہو؟ اس نے رو کر کہا، اے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یتیم مدینہ ہوں، میرے سر پر باپ کا سایہ نہیں ہے جو میرے لئے کپڑے لادیتا، میری امی مجھے نہلا کر کپڑے پہنا دیتی اس لئے میں یہاں اداس بیٹھا ہوں، نبی علیہ الصلوٰۃ نے اسے فرمایا کہ تم میرے ساتھ آئو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر واپس اپنے گھر تشریف لائے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا، حمیرا! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس بچے کو نہلا دو چنانچہ اسے نہلا دیا گیا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے دو ٹکڑے کردئیے، کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیا گیا، پھر اس کے سر پر تیل لگا کر کنگھی کی گئی، حتیٰ کہ جب وہ بچہ تیار ہوگیا اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ چلنے لگا تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے کو فرمایا آج تو پیدل چل کر مسجد میں نہیں جائے گا بلکہ میرے نبوت والے کندھوں پر سوار ہو کر جائے گا۔
نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بچے کو کندھوں پر سوار کرلیا اور اسی حالت میں اس گلی میں تشریف لائے جس میں بچے کھیل رہے تھے، جب بچوں نے یہ معاملہ دیکھا تو وہ رو کر کہنے لگے کاش ہم بھی یتیم ہوتے اور آج ہمیں بھی نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نبوت والے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف حاصل ہوتا، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جب مسجد میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے گئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھنے لگا، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے اشارہ کرکے فرمایا تم آج زمین پر نہیں بیٹھو گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت و شفقت کی وجہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے، اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اتنی نیکیاں لکھ دے گا۔ (ازخطبات فقیر)( شمارہ نمبر 51)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more