ہر دینی کام کرنے والے کو اپنا شریکِ کار سمجھیں
ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد و تلقین یا دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے قائم ہیں اور اپنی اپنی جگہ مفید خدمات بھی انجام دے رہی ہیں ان میں بہت سے علماء و صلحاء اور مخلصین کام کر رہے ہیں اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر اور امکانی حد تک باہم تعاون کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست و بازو سمجھے اور دوسروں کے کام کی ایسی ہی قدر کریں جیسی اپنے کام کی کرتے ہیں تو یہ مختلف جماعتیں اپنے نظام میں الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں اور تقسیمِ عمل کے ذریعہ اکثر دینی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہیں۔۔۔۔
مگر عموماً یہ ہو رہا ہے کہ ہر جماعت نے جو اپنے سعی و عمل کا ایک دائرہ نظام عمل بنایا ہے۔۔۔۔ عملی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدمتِ دین کو اسی میں منحصر سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔ گو زبان سے نہ کہیں دوسری جماعتوں سے اگر جنگ و جدل بھی نہیں تو بے قدری ضرور دیکھی جاتی ہے۔۔۔۔ اس کے نتیجہ میں ان جماعتوں میں بھی ایک قسم کاپایا جاتا ہے۔۔۔۔
غور کرنے سے اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقصد سب کا اگرچہ دین کی اشاعت، حفاظت اور مسلمانوں کی علمی، عملی اخلاقی اصلاح ہی ہے لیکن اس مقصد کے حاصل کرنے کے لئے کسی نے ایک دارالعلوم قائم کر کے تعلیم دین کی اہم خدمات انجام دیں۔۔۔۔ کسی نے ایک تبلیغی جماعت بنا کر رشد و ہدایت کا فرض ادا کیا۔۔۔۔ کسی نے کوئی انجمن بنا کر احکام دین کی نشر و اشاعت کا تحریری انتظام کیا۔۔۔۔
کسی نے فتویٰ کے ذریعہ خلقِ خدا کو ضروری احکام بتانے کے لیے دارالافتاء قائم کیا۔۔۔۔ کسی نے اسلام کے مخالف ملحدانہ تلبیسات کے جواب کے لیے تصنیفات کا یا ہفتہ واری، ماہواری رسالہ اخبار کا سلسلہ جاری کیا۔۔۔۔ یہ سب کام اگرچہ صورت میں مختلف ہیں۔۔۔۔ مگر درحقیقت ایک ہی مقصد کے اجزاء ہیں۔۔۔۔ ان مختلف محاذوں پر جو مختلف جماعتیں کام کریں گی یہ ضرور ہے کہ ہر ایک کا نظامِ عمل مختلف ہو گا۔۔۔۔ اس لیے ہر جماعت نے بجا طور پر سہولت کے لئے اپنے اپنے مزاج و مذاق اور ماحول کے مطابق ایک نظامِ عمل اور اس کے اصول و قواعد بنا رکھے ہیں اور ہر جماعت ان کی پابند ہے۔۔۔۔
یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو منصوص اور قطعی اور قرآن و سنت سے ثابت ہے اس سے انحراف کرنا قرآن و سنت کی حدود سے نکلنا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ اپنا بنایا ہوا نظامِ عمل اور اس کے تنظیمی اصول و قواعد نہ منصوص ہیں، نہ ان کا اتباع ازروئے شرع ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔۔۔۔ بلکہ جماعت کے ذمہ داروں نے سہولت عمل کے لیے ان کو اختیار کر لیا ہے۔۔۔۔ ان میں حسبِ ضرورت تبدیلیاں وہ خود بھی کرتے رہتے ہیں اور حالات اور ماحول بدلنے پر اس کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نظامِ عمل بنا لینا بھی کسی کے نزدیک ناجائز یا مکروہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ مگر اس میں علمی غلو تقریباً ہر جماعت میں یہ پایا جاتا ہے کہ اپنے مجوزہ نظامِ عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دے دیا گیا۔۔۔۔ جو شخص اس نظامِ عمل میں شریک نہیں اگرچہ مقصد کا کتنا ہی عظیم کام کر رہا ہو اس کو اپنا بھائی اپنا شریک کار نہیں سمجھا جاتا اور اگر کوئی شخص اس نظام عمل میں شریک تھا پھر کسی وجہ سے اس میں شریک نہ رہا تو عملاً اسے اصل مقصد اور دین سے منحرف سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا ہے جو دین سے انحراف کرنے والوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔۔۔۔ اگرچہ وہ اصل مقصد یعنی اقامتِ دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے اس غلو کے نتیجہ میں وہی تخرب و تعصب اور گروہ بندی کی آفتیں اچھے خاصے دین دار لوگوں میں پیدا ہو جاتی ہیں جو جاہلی عصبیتوں میں مبتلا لوگوںمیں پائی جاتی ہیں۔۔۔۔ (وحدتِ امت: ص ۳۲،۳۴)
