گمراہ ہونے والے علماء
اس دنیا میں بہت لوگ آئے جنہوں نے ظاہری علم تو بڑا حاصل کیا، لیکن اللہ والے نہ بن سکے، گمراہ ہو گئے۔
امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان کا نام ابو الفضل اور فیضی تھا۔ ان کے پاس ظاہری علم بڑا تھا۔ ابوالفضل بڑا تھا اور فیضی چھوٹا تھا۔ ان میں ذہانت بہت تھی۔ فیضی جو بات ایک مرتبہ سنتا اسے وہ یاد ہو جاتی۔ چھاپ لگ جاتی تھی۔ اور ابو الفضل اگر دو دفعہ سن لیتا تو اسے بھی یاد ہو جاتی تھی۔ وہ دونوں بادشاہ کے بڑے مقرب تھے۔
اس زمانے میں شعر ا بادشاہ کی منقبت لکھا کرتے تھے جس کے اندر بادشاہ کے بارے میں تعریفی اشعار ہوتے تھے۔ جو شاعر بھی اپنا کلام لے کر بادشاہ کے پاس آتا اور منقبت سناتا تو چھوٹا بھائی سن کر کھڑا ہو جاتا اور کہتا کہ یہ تو میرے اشعار ہیں۔ چونکہ اس کو یاد ہو چکے ہوتے تھے اس لئے وہ سنا دیتا تھا۔ جب چھوٹا سنا دیتا تو دو دفعہ ہو جاتا۔ ایک دفعہ شاعر سناتا اور دوسری دفعہ چھوٹا بھائی سناتا۔ چنانچہ دو دفعہ سن کر ابوالفضل کھڑا ہو جاتا اور کہتا: جی ہاں! میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ میرے بھائی کا کلام ہے، میں بھی سناسکتا ہوں۔ وہ بھی سنا دیتا اور دوسروں کے اشعار کا انعام بھی انہی کو مل جاتا۔ شعرا بے چارے پریشان ہوتے اور سوچتے کہ پتہ نہیں یہ کیا معاملہ ہے؟ (ج ۲۹ ص ۱۲۴)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

