کیمیا کی تلاش

کیمیا کی تلاش

ایک عجیب قصہ بڑی عبرت کا میں نے اپنے والد صاحب سے کئی مرتبہ سنا ایک بادشاہ تھا اس کو کیمیا کی دھت تھی اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ جس کو کیمیا کا مرض پڑ جاتا ہے اس کی عقل و ہوش شطرنج کے کھلاڑیوں سے بھی زیادہ کھوئی جاتی ہے میں نے اپنے کئی دوستوں کو دیکھا جن کو اس کا چسکہ تھا جب ان کا راستے میں کہیں ساتھ ہو جاتا وہ قدموں پر نگاہ جمائے کبھی ادھر کبھی ادھر دیکھتے جایا کرتے اور جہاں کہیں شبہ ہو جاتا وہاں کھڑے ہو کر اور بوٹیوں کو دیر تک مل مل کر سونگھتے تھے بادشاہ بھی اسی فکر میں ہر وقت رہتا وزراء کا ناطقہ بند رکھتا ایک وزیر نے کہا کہ حضور اتنے متفکر رہتے ہیں۔۔۔
حضور کی سلطنت میں تو فلاں سقہ جو فلاں جگہ رہتا ہے بڑا ماہر ہے۔۔۔ اسے خوب بنانی آتی ہے بادشاہ کو بڑی حیرت ہوئی کہنے لگا ہماری سلطنت میں اس کا جاننے والا ہے اور ہم اتنے پریشان ہو رہے ہیں ۔۔۔چار سنتری بھیج دئیے کہ اس سقے کو پکڑ لائو‘ سقہ پیش ہوا‘ کپڑے پھٹے ہوئے لنگوٹا بندھا ہوا بدن پر بجائے کرتے کے ایک گاڑھے کی کمری بہت پھٹی ہوئی۔۔۔ بادشاہ کو اس کی صورت دیکھتے ہی اول تو بہت نفرت ہوئی۔۔۔ اس سے پوچھا کہ تجھے کیمیا آوے؟ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا حضور تو بادشاہ سلامت ہیں سمجھ دار ہیں دنیا کے حاکم ہیں اگر مجھے کیمیا آتی تو میرا یہ حال ہوتا جو حضور دیکھ رہے ہیں۔۔۔ میں بھی کوئی محل ایسا ہی بناتا جیسا حضور کا ہے بات معقول تھی بادشاہ کی بھی سمجھ میں آگئی‘ چھوڑ دیا۔۔۔ اور اس وزیر کو بلا کر ڈانٹا وزیر نے قسم کھائی کہ
حضور ! مجھے تو خوب تجربہ ہے اسے خوب آتی ہے بادشاہ نے سلطنت کا انتظام ولی عہد کو سپرد کر دیا۔۔۔ بدن پر بھبھوت ملا۔۔۔ تاکہ پہچانا نہ جائے اور اس وزیر کو ساتھ لے کر سقہ کے گھر کا نشان بتا دیا وزیر کو چلتا کر دیا۔۔۔ سچ ہے کہ کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا بہرہ کر دیتی ہے۔۔۔ جب وہ سقہ گھر سے نکلا یہ بیٹھا رہا جب وہ شام کو پانی ڈالنے جانے لگا تو اسکے ساتھ ہولیا کہنے لگا بڑے میاں آپ تو بہت بڈھے ہوگئے ہیں‘ آپ کو تو بڑی دقت ہوگی۔۔۔ میں تو گھر سے فالتو ہوں مارا مارا پھرتا ہوں اگر آپ مجھے کچھ ٹھکانے بتا دیں تو میں ہی گھروں میں پانی ڈال آیا کروں‘ سقے نے کہا نہیں بھائی میری تو روزی اسی میں ہے‘ تواپنا کام کر کہنے لگا بڑے میاں تم مجھے کچھ اچھے ہی بہت لگو میں تو تمہاری خدمت میں رہنا چاہتا ہوں‘ تم سے کچھ مانگنے کا نہیں نہ مجھے روٹی چاہئے‘ نہ اور کچھ‘ شام کو سقہ نے جب وہ روٹیاں مانگ کر لایا بادشاہ کی تواضع کی مگر اس نے انکار کر دیا کہ مجھے بالکل بھوک نہیں۔۔۔ غمزدہ ہوں‘ پریشان ہوں میں تو کئی کئی دن کافاقہ کرتا ہوں‘ سقہ نے بڑے اصرار سے دو چار لقمے کھلائے
ایک سقہ کی غیرت نے تو تقاضہ نہ کیا کہ ایک آدمی اسکا کام کرے اور وہ بغیر اسکے روٹی کھا لے‘ مگر ہم لوگوں کو یقین نہیں آتا کہ ہم اخلاص سے اللہ کا کام کریں اور وہ ہمیں بھوکا مار دے۔۔۔ البتہ اتنا فرق ہے کہ سقہ عالم الغیب نہیں تھا۔۔۔ اس لئے دھوکہ میں آگیا مالک عالم الغیب ہے اسے حقیقت حال معلوم ہے اسے معلوم ہے کہ کون واقعی اخلاص سے مالک کا کام کر رہا ہے اور کون دھوکہ سے کر رہا ہے
غرض بادشاہ نے سقہ کی بہت ہی خدمت کی‘ دن بھر اس کا پانی بھرتا‘ رات کو جب سقہ لیٹتا تو اس کا خوب بدن دباتا‘ ہٹا کٹا جوان‘ قوی سقے کو بھی پانچ سات دن میں وہ مزا آیا کہ لطف ہی تو آگیا دو تین مہینے سقے نے خوب ٹٹولا خوشامد کی۔۔کچھ کھالے‘ کچھ پیسے مقرر کر لے‘ بادشاہ نے کہا جی میاں مجھے مزدوری کرنی ہو تو دنیا میں بہت مزدوریاں‘ مجھے تو تم بہت ہی اچھے لگتے ہو‘ میں تو راستے میں بیٹھ گیا تھا تمہاری صورت مجھے کچھ بہت ہی اچھی لگی ۔۔۔
غرض بادشاہ نے وہ محبت کے جذبے دکھائے کہ سقہ بھی سوچ میں پڑ گیا‘ کہ یہ بڑھاپے میں عاشق زار کہاں سے پیدا ہوگیا کبھی کہتا ابا جی لنگی باندھ کے کپڑے دے دو‘ میں دھولائوں‘ ارے بھائی میں تو خود دھولوں گا‘ اجی تم بڑھاپے میں کہاں تکلیف اٹھائو گے‘ ان میں جوئیں ڈھونڈتا خوب صاف کرتا کچھ پیسے تو ضرور ساتھ ہوں گے بڈھے کو جھانسہ دے کر کچھ ادھر ادھر سے کھا لیتا مگر بڈھے کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور زہد کا زور دکھاتا چار پانچ مہینے بعد بڈھے نے کہا ’’ار ے لونڈے مجھے کیمیا آوے‘
بادشاہ نے بھی مجھ سے پوچھا تھا‘ میں نے (سخت گالی دے کر) اس کو بھی انکار کر آیا۔۔۔ تجھے ضرور بتائوں گا‘ بادشاہ کی جان میں تو جان آگئی مگر زبان سے اتنی سختی سے انکار کیا کہ کیمیا کی ایسی تیسی مجھے کیا کرنا مجھے تو تمہاری محبت نے مار رکھا ہے آٹھ دس دن تک سقہ اصرار کرتا رہا بادشاہ انکار کرتا رہا۔۔۔ ایک دن بڈھے نے کہا میں بڈھا ہوگیا‘ یہ الم (علم) میرے ساتھ ہی چلا جائے گا‘ کسی اور کو تو میں بتانے کا نہیں‘ تجھے ضرور بتائوں گا۔۔۔ بھائی محبت سے محبت ہوتی ہے مجھے بھی تجھ سے محبت ہوگئی‘ اگرچہ تو نے مجھے اپنا حال تو بتایا نہیں کہ تو کون ہے؟ کہاں سے آیا؟ ابا جی کیا اپنا حال بتائوں‘ لاوارثی ہوں‘ یوں ہی مارا مارا پھرتا ہوں۔۔۔ گھر بھی بھول بھال گیا‘ کہاں تھا‘ اب تو تم ہی اپنا بیٹا بنا لو‘ (غرض میں تو آدمی گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے یہ تو بہرحال آدمی تھا) ایک دن صبح ہی صبح سقہ بادشاہ کو ساتھ لے کر جنگل گیا اور پچیس تیس بوٹیاں اس کو خوب دکھلائیں اور اسی سے توڑوائیں اور گھر آ کر اسی سے کیمیا بنوائی۔۔۔
بادشاہ تو اس پر مر ہی رہا تھا خوب غور سے دیکھا اور رات ہی کو بھاگ گیا اگلے دن سقہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔۔۔ ’’کمبخت بہت ہی دھوکہ باز تھا‘ بے ایمان یوں کہتا تھا مجھے تجھ سے محبت ہے انجان آدمی سے تو کبھی منہ نہ لگائے‘‘۔۔۔
اپنے تخت پر پہنچ کر ان ہی سنتریوں کو سقہ کے پاس بھیجا وہ پکڑ لائے بادشاہ نے پوچھا ارے سقہ! سنا ہے تجھے کیمیا آتی ہے‘ اجی میاں! آپ نے تو پہلے بھی پوچھا تھا اگر مجھے کیمیا آتی تو میں یوں مارا مارا پھرتا‘ مگر پانچ چھ مہینے جس نے پائوں دبائے ہوں وہ کہاں چھپ سکے تھا‘ سقہ اس کے منہ کو گھورتا رہا۔۔۔ بادشاہ نے کہامجھے پہچان لیا سقہ نے کہا میں نے خوب پہچان لیا‘ بادشاہ نے کہا کہ پھر تو یہ کیا کہہ رہا ہے۔۔۔ سقہ نے کہا‘ میاں! کیمیا تو پائوں دبانے سے آتی ہے بادشاہ بن کر نہیں آتی‘ میاں کیمیا کے واسطے تو سقہ بننا ضروری ہے سنا کہ بادشاہ بہت ہی خوش ہوا اور اسے بہت ہی انعام دیا۔۔۔
سقہ نے بات تو بہت ہی صحیح اور پتہ کی کہی ہے خاکساری اور تواضع سے جو ملتا ہے وہ بڑائی اور تکبر سے نہیں ملتا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے۔۔۔
ترجمہ:۔۔۔ جو اللہ کے لیے تواضع کرے اللہ اس کو بلند درجے عطا فرماتے ہیں۔۔۔ یہاں تو تواضع بھی اللہ کے لیے نہیں تھی غرض کے واسطے تھی ۔۔۔مگر تواضع اور سقہ کے پائوں دبانے نے بادشاہ کو کیمیا سکھا دی۔۔۔

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more