کیا خدا ہے؟ … ہاں خدا ہے

کیا خدا ہے؟ … ہاں خدا ہے

آج کل جدید تعلیم یافتہ حضرات کو خدا نظر نہیں آتا، درج ذیل واقعہ سے جو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ نے اپنے خطبات میں نقل فرمایا ہے کہ اس کے پڑھنے سے ان شاء اللہ ان حضرات کو خدا تعالیٰ نظر آجائیگا۔
یہ کائنات از خود نہیں بنی، بلکہ ایک حکیم نے بنائی ہے جو اسے چلا رہا ہے، بہت سے دہریوں نے انکار کیا کہ خدا کا وجود ہی نہیں ہے، یہ کائنات از خود بن گئی یہ بالکل جہالت ہے اور فطرت کے خلاف ہے، دلیل سے آدم اللہ کو نہیں پہچانتا، بلکہ دل پر ایک دبائو ہے کہ مجبور ہوکر ماننا پڑتا ہے کہ ہے کوئی ذات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام ابو حنیفہؒ کا واقعہ ہے کہ ان کے زمانے میں مہدی جو اموی خلیفہ تھا، اس کے دربار میں ایک دہریہ آیا، جو خدا کی ذات سے انکار کرتا تھا، اس نے کہا میں نہیں مانتا کہ خدا موجود ہے، یہ کائنات طبعی رفتار سے خود بنی ہے اور خود چل رہی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں اور پیدا ہورہے ہیں وغیرہ۔ یہ سب ایک طبعی کارخانہ ہے کوئی بنانے والا نہیں ہے یہ اس کا دعویٰ تھا اور اس نے چیلنج کیا کہ مسلمانوں میں جو سب سے بڑا عالم ہو، اس کو میرے مقابلے میں لایا جائے، تاکہ اس سے بحث کروں اور لوگ غلطی میں مبتلا ہیں کہ اپنی طاقتوں کو خواہ مخواہ ایک غیبی طاقت کے تابع کردیا ہے، جو سارے جہان کو چلا رہی ہے، تو اس زمانے میں سب سے بڑے عالم امام ابو حنیفہؒ تھے، مہدی نے امام صاحبؒ کے پاس آدمی بھیجا، رات کا وقت تھا، رات ہی کو خلیفہ کا دربار منعقد ہوتا تھا، آدمی بھیجا کہ وہ آکر اس دہریے سے بحث کریں اور اسے سمجھائیں اور راہ راست پر لائیں۔چنانچہ آدمی پہنچا، بغداد میں ایک بہت بڑا دریا ہے، اسے دجلہ کہتے ہیں، اس کے ایک جانب شاہی محلات تھے، ایک جانب شہر، تو امام ابو حنیفہؒ شہر میں رہتے تھے اس لئے دریا پارکرکے آنا پڑتا تھا۔اس نے کہا اصل میں دربار میں ایک دہریہ آگیا ہے اور وہ دعویٰ کررہا ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، کائنات خود بخود چل رہی ہے، آپ کو مناظرہ کیلئے بلایا ہے۔
امام صاحبؒ نے فرمایا، اچھا، آپ جا کے کہہ دیں کہ میں آرہا ہوں، وہ آدمی واپس گیا اور کہا کہ امام صاحبؒ کو میں نے خبر کردی ہے اور آپ آنے والے ہیں۔
اب دربار لگا ہوا ہے۔ خلیفہ، امراء، وزراء بیٹھے ہوئے ہیں اور دہریہ بھی بیٹھا ہوا ہے، امام صاحبؒ کا انتظار ہے مگر امام صاحب نہیں آرہے۔ رات کے بارہ بج گئے امام صاحبؒ ندارد۔
دہریے کی بن آئی، اس نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ ڈر گئے ہیں اور سمجھ گئے ہیں کہ کوئی بڑا فلسفی آیا ہے، میں اس سے نمٹ نہیں سکوں گا، اس واسطے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے اور آپ یقین رکھیں وہ نہیں آئیں گے، میرے مقابلے میں کوئی نہیں آسکتا۔
اب خلیفہ بھی متامل ہے، درباری بھی حیران ہیں اور دہریہ بیٹھا ہوا شیخی دکھا رہا ہے۔
جب رات کا ایک بجا تو امام صاحبؒ پہنچے، دربار میں حاضر ہوئے، خلیفہ وقت نے تعظیم کی، جیسے علماء ربانی کی کی جاتی ہے، تمام دربار کھڑا ہوگیا۔
خلیفہ نے امام صاحبؒ سے کہا کہ آپ اتنی دیر میں کیوں آئے؟ آدمی رات کے آٹھ بجے بھیجا گیا تھا، اب رات کا ایک بجا ہے، آخر اتنی تاخیر کی کیا وجہ پیش آئی؟ شاہی حکم تھا، اس کی تعمیل جلد ہونی چاہئے تھی، نہ یہ کہ اس میں اتنی دیر لگائی جائے۔
امام صاحبؒ نے فرمایا کہ ایک عجیب و غریب حادثہ پیش آگیا، جس کی وجہ سے مجھے دیر لگی اور عمر بھر میں، میں نے ایسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا تھا، میں حیران ہوں کہ کیا قصہ پیش آیا، اس شد و مد سے بیان کیا کہ سارا دربار حیران ہوگیا کہ کیا حادثہ پیش آگیا۔
فرمایا بس عجیب و غریب ہی واقعہ تھا اور خود مجھے بھی ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا، کہ کیا قصہ تھا؟ جب سارے دربار کو خوب شوق دلادیا اور سب سرتاپا شوق بن گئے، حتیٰ کے خود امیر المؤمنین نے کہا کہ فرمائیے کیا قصہ پیش آیا … فرمایا!
قصہ یہ پیش آیا، جب میں شاہی محل میں اترنے کے لئے چلا ہوں تو دریا بیچ میں تھا دریا کے کنارے پر جو پہنچا تو اندھیری رات تھی، نہ کوئی ملاح تھا نہ کشتی تھی، آنے کا کوئی راستہ نہ تھا، میں حیران تھا کہ دریا کو کس طرح پار کروں، اس شش و پنج میں کھڑا ہوا تھا کہ میں نے یہ حادثہ دیکھا کہ دریا کے اندر سے خود بخود لکڑی کے نہایت عمدہ بنے بنائے تختے نکلنے شروع ہوئے اور ایک کے بعد ایک نکلتے چلے آرہے ہیں، میں تحیر سے دیکھ رہا تھا کہ یا اللہ! دریا میں سے موتی نکل سکتا ہے، مچھلی نکل سکتی ہے، مگریہ بنے بنائے تختے کہاں سے آئے؟ ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ اس سے زیادہ عجیب واقعہ پیش آیا کہ تختے خود بخود جڑنے شروع ہوئے، جڑتے جڑتے کشتی کی صورت ہوگئی، میں نے کہا یا اللہ! یہ کس طرح سے کشتی بن گئی، آخر انہیں کون جوڑ رہا ہے کہ اوپر نیچے خود بخود تختے لگے چلے جارہے ہیں۔
ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ دریا کے اندر سے لوہے قیتل کی کیلیں نکلنی شروع ہوگئیں اور خود بخود اس کے اندر ٹھکنے لگیں اور جڑ جڑا کے بہترین قسم کی کشتی بن گئی۔
میں حیرت میں کہ یہ کیا ماجرا ہے، یہ تختے جو جڑے ہوئے تھے، ان کی درجوں سے پانی اندر گھس رہا تھا کہ دریا کے اندر سے خود بخود ایک روغن نکلنا شروع ہوا اور ان درجوں میں وہ بھرنا شروع ہوا جس سے پانی اندر گھسنا بند ہوگیا۔
ابھی میں اسی حیرت میں تھا کہ وہ کشتی خود بخود میری طرف بڑھنی شروع ہوئی اور کنارے پر آکر ایسے جھک گئی، گویا مجھے سوار کرانا چاہتی ہے، میں بھی بیٹھ گیا، وہ خود بخود چلی اور مجھے لے کر روانہ ہوگئی، دریا کی دھار پر پہنچی۔ پانی ادھر کو جارہا تھا کشتی خود بخود ادھر کو جارہی تھی، کیونکہ شاہی محلات ادھر کو تھے۔
میں حیران تھا کہ یا اللہ! آخر پانی کے بہائو کے خلاف کون اسے لے جارہا ہے؟ یہاں تک کہ شاہی محل کے قریب کنارے پر پہنچ گئی اور آخر جھک کر پھر کنارے پر کھڑی ہوگئی کہ میں اتر جاؤں تو میں اتر گیا، پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کشتی غائب بھی ہوگئی، گھنٹہ بھر اس کنارے اور گھنٹہ بھر اس کنارے سوچتا رہا کہ یہ کیا قصہ تھا؟
یہ سانحہ جس کی وجہ سے تحیر میں کئی گھنٹے لگ گئے، اب تک سمجھ میں نہیں آیا، کیا ماجرا تھا؟ اور میں امیر المؤمنین سے معافی چاہتا ہوں کہ آٹھ بجے بلایا گیا اور ایک بجے پہنچا ہوں۔
دہریے نے کہا، امام صاحب! میں تو یہ سنا تھا کہ آپ بڑے عالم ہیں، بڑے دانش مند اور فاضل مند آدمی ہیں مگر بچوں کی سی باتیں کررہے ہیں، بھلا یہ ممکن ہے کہ پانی میں سے خود بخود تختے نکل آئیں، خود ہی جڑنے لگیں، خود ہی کیلیں ٹھک جائیں، خود ہی روغن لگ جائے، خود آکے کشتی اپنے آپ کو جھکا دے، آپ اس پر بیٹھ جائیں اور خود ہی لے کے چل دے، خود ہی وہ کنارے پر پہنچا دے، یہ کوئی عقل میں آنے والی بات ہے؟ میں نے سمجھا تھا کہ آپ بڑے دانش مند، فاضل اور عالم ہیں، امام آپ کا لقب ہے اور باتیں کررہے ہیں آپ نادانوں اور بچوں جیسی؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کشتی بنانے والا نہیں، خود بخود بن گئی، کوئی کیلیں ٹھونکنے والا نہیں، خود بخود ٹھک گئیں، کوئی روغن بھرن والا نہیں، خود ہی بھر گیا، کوئی چلانے والا ملاح نہیں، خود ہی چل پڑی، کوئی سمجھانے والا نہیں، خود ہی سمجھ گئی کہ مجھے شاہی محل کے اوپر جانا ہے، یہ عقل میں آنے والی بات ہے؟
امام صاحبؒ نے فرمایا، اچھا یہ بات نادانی اور بے وقوفی کی ہے؟
اس نے کہا، جی ہاں! فرمایا: ایک کشتی بغیر بنانے والے کے بن نہ سکے، بغیر چلانے والے کے چل نہ سکے، بغیر کیلیں ٹھونکنے والے کے اس کی کیلیں ٹھک نہ سکیں اور یہ اتنا بڑا جہان جس کی چھت آسمان ہے، جس کا فرش زمین ہے، جس کی فضا میں لاکھوں جانور ہیں، یہ خود بخود بن گیا، خود ہی چل رہا ہے، سورج بھی، چاند بھی، خود ہی چل رہے ہیں، یہ کوئی عقل میں آنے والی بات ہے؟ ایک معمولی کشتی جسے انسان بنا سکتا ہے، یہ تو بغیر بنانے والے کے نہ بنے اور اتنا بڑا جہان ہو، انسان کے بس میں نہیں وہ خود بخود بن جائے، تو تمہاری عقل بچوں جیسی ہے یا میری عقل بچوں جیسی؟ میں نادان ہوں یا تم نادان ہو؟
مناظرہ ختم ہوگیا اور بحث تمام ہوگئی اور دہریہ اپنا سا منہ لے کر واپس ہوگیا، اب کیا بحث کرے، جو اس کی بنیاد تھی وہ ساری کی ساری ختم ہوگئی۔ (شمارہ نمبر 11)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more