کوڑا پھینکنے والے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک
فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک پڑوسی کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ہمارے
۔’’یہاں دارالافتاء کے عقب میں اوپر کی منزل والے روزانہ دارالافتاء کے اندر کوڑا پھینک دیا کرتے تھے۔۔۔ انہیں کئی باز کہلوایا مگر کوئی اثر نہ ہوا کسی نے مجھ سے کہا کہ ایک ٹرک پتھروں کا منگوا لیتے ہیں اور ان پر برساتے ہیں تو ان کا دماغ درست ہو جائے گا۔۔۔ میں نے کہا کہ نہیں یہ مناسب طریقہ نہیں۔۔۔ پھر میں نے پڑوسی کو کہلوایا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ معلوم نہیں کہ آپ کس وقت گھر پر ہوتے ہیں اور فارغ اوقات کیا ہے؟ ۔۔۔میرا یہ پیغام سن کر وہ میرے پاس خود ہی آگئے۔۔۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو کچھ ہدایا وغیرہ دینا چاہتا ہوں اس لیے خیال ہوا کہ پہلے جان پہچان ہو جائے تو بہتر ہے وہ کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ہدایا دیا کریں۔۔۔ ہماری تو بدقسمتی ہے کہ اب تک محروم رہے۔ میں نے کوڑے کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ نہیں آپ کے ہاں سے تو وافر مقدار میں ہدایا آتے ہیں۔۔۔ ٹوکروں کے ٹوکرے ۔۔۔اس لیے تو خیال ہوا کہ مجھے بھی احسان کا بدلہ دینا چاہئے۔۔۔‘‘ جب آپکے ہاں سے اس قدر ہدایا آتے رہتے ہیں تو مجھے بھی تو کچھ دینا چاہئے۔۔۔ یہ سن کر وہ بہت نادم ہوئے اور اسکے بعد ان کے گھر سے کوڑا آنا بند ہوگیا۔ (بحوالہ محبت الٰہیہ)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

