کسی کی نہ ماننے والے

کسی کی نہ ماننے والے

ایک مرتبہ نیو یارک میں اس عاجز نے بیان کیا تو وہاں پر ایک مقامی آدمی تھا، اس نے آکرکلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ کہنے لگا: جی میرا کوئی نام رکھ دیں۔ ہم نے کچھ انبیاء کرام کے نام، صحابہ کرام کے نام اس کو سنائے۔ مگر اس کا دل کہیں مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ اچانک وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ جی آپ کا کوئی بیٹا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، الحمدﷲ، بیٹا ہے۔ اس کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: حبیب اللہ، سیف اللہ۔ کہنے لگے کہ حبیب اللہ کے معنی کیا ہیں؟ میں نے کہا کہ (اللہ کا دوست) تو جیسے ہی میں نے کہا نا ’’ فرینڈ آف اللہ‘‘ تو کہنے لگا: ہاں یہ نام میں پسند کرتا ہوں۔ اس کے سینے میں ایمان کا نور تھا۔ چنانچہ ہم نے اس کا نام حبیب اللہ رکھ دیا۔ اب میںنے اس کو ارکانِ اسلام کے بارے میں بتایا کہ بھئی یہ دین کی بنیادیں ہیں، یہ دین اسلام کے پلر (ستون) ہیں۔ پھر اس کو کہا کہ اب وقت زیادہ ہو چکا ہے آپ کل عشا کے وقت میرے پاس آنا تو میں آپ کو ضروریات دین کے بارے میں کچھ بنیادی چیزیں سمجھائوں گا۔ طہارت، وضو، نماز اور جو بھی بنیادی چیزیں ہیں ہمارے دین کی ان کے بارے میں آپ کو بتائوں گا۔ چنانچہ اگلے دن وہ آ گیا۔ اب اس نے بغل میں کوئی چیز دبائی ہوئی تھی اور بیٹھا بات بھی سن رہا تھا۔ میں نے پوچھا: حبیب اللہ یہ کیا ہے؟ کہتا ہے: ’’ بخاری، بخاری‘‘ ۔ پہلے تو میں نہ سمجھا، پھر اس نے مجھے دکھایا تو وہ ’’بخاری شریف‘‘ کا انگریزی ترجمہ تھا۔ میں نے پوچھا: حبیب اللہ! یہ تمہارے ہاتھ میں کس نے دے دی؟ تو کہنے لگا: کل جب مجلس برخاست ہوئی تو ہمارے ایک عرب بھائی اسی مسجد میں تھے، وہ میرے پاس آئے اور مجھے کہنے لگے کہ مبارک ہو آپ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اب میں آپ کو ایک بات بتائوں کہ کسی کے پیچھے چلنے کی ضرورت نہیں، کسی کی ماننے کی ضرورت نہیں، یہ کتاب ہے، اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرتے رہنا تم دین کے اوپر چلنے والے بن جائو گے۔ اب اندازہ لگائیں کہ جو بندہ آج کلمہ پڑھ رہا ہے، اس کو دین کا کچھ پتہ نہیں، کیا وہ اس قابل ہے کہ وہ بخاری شریف کو پڑھ کے اس پر عمل کر سکے؟ وہ بخاری شریف جس کو پڑھانے کے لئے ہمارے مدارس میں پہلے سات سال لگواتے ہیں اور آٹھویں سال بخاری شریف پڑھاتے ہیں اور اس میں بھی کئی احادیث کو تطبیق دینا اور اس کے اشکالات کو دور کرنا، اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس کتاب کو ایک بالکل نابلد اور نو آموز شخص کے ہاتھ میں پکڑا دیا کہ اس پرچلنا اور عمل کرنا۔ اب وہ گمراہ نہیں ہو گا تو اور کیا ہوگا۔ (ج 26ص110)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more