کاروبار بڑھانے کا ایک ہی اصول ہے (7)۔

کاروبار بڑھانے کا ایک ہی اصول ہے (7)۔

ہم اپنے اردگرد روزانہ کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو کاروبار شروع کرتے ہیں۔ میرے سامنے کئی ایسے مشاھدات موجود ہیں۔مثلاً ایک شخص نے سالہا سال جوتے کی دوکان پر ملازمت کی اور پھر اپنا کاروبار شروع کرلیا۔ جس پر مجھے یقین تھا کہ یہ شخص ضرور ایک بہترین بزنس مین بنےگا مگر کچھ عرصہ بعد وہ ناکام ہوگیا۔ اسی طرح ایک شخص کو وراثت میں بہت سارا مال ملا اور اُسکو کاروبار کی سوجھ بوجھ بھی تھی۔ اُس نے بے تحاشہ پیسہ لگا کر بہترین کاروبار شروع کرلیا جس کے ڈوبنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ جتنی رقم اُس نے انویسٹ کی تھی اُتنی ہی اُسکے پاس موجود تھی۔ مگر دس بیس سال کے بعد یہ بندہ بھی بالآخرسب کچھ گنوا بیٹھا۔ ایک تیسری مثال سنئے کہ ایک صاحب کئی عرصہ دوبئی قیام کرنے کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے۔ کام میں بہت تجربہ ہوچکا تھا اور کاروباری لین دین میں بھی بہت سمجھداری سے پیش آتے تھے مگر دوکان بنائی تو وہ چند دن بعد بند ہوگئی، کارخانہ لگایا تو چند ہی دن بعد خریدار ناراض ہوگئے اور پھر دربدر پھرنے لگے۔
دوستو! اس طرح کے کئی مشاھدات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔ ان سب کی ناکامی میں ایک بات مشترک تھی جو میں نے بہت سوچ بچار کے بعد اخذ کی کہ یہ لوگ دیانتدار اور امانتدار نہیں تھے۔
یاد رکھیں!!!کسی چیز کو بیچنے میں مہارت حاصل کرنے سے انسان اچھا کاروباری نہیں بن جاتا۔ گاہک کو بیوقوف بنا کر مال بیچنے سے کوئی شخص زیادہ دیر تک کاروبار برقرار نہیں رکھ سکتا۔ لوگوں کو لوٹ کر اور دھوکہ دے کر پیسے ہتھیا لینے سے کوئی بھی بزنس بڑا نہیں ہوجاتا۔
معاملات کو صحیح رکھنا اور لین دین میں نیت ٹھیک رکھنا یہ کاروبار کا ایسا اصول ہے جس کے اوپر کاروبار ایک صدی سے بھی زیادہ قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص معاملات میں منافقت کرتا ہے۔ اپنے گاہک کو بیوقوف بناتا ہے اور خریدار کو دھوکہ میں رکھ کر اپنی مارکیٹ بنا لیتا ہے تو اگرچہ اسکی دوکان کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو، بالآخر برباد ہی ہوگی۔
ایک بزرگ فرمارہے تھے کہ رزق میں برکت اور کاروبار میں ترقی صرف ایمانداری اور دیانتداری سے ہی ہوتی ہے۔ یہ ایسا کلیہ ہے کہ کوئی شخص اگر غیر مسلم بھی ہو تو وہ بھی کاروبار کو تبھی قائم رکھ سکتا ہے جب وہ معاملات کا کھرا اور سچا ہو۔ دنیا کی کوئی بھی کمپنی کا مطالعہ کرلیں آپکو یقین آجائیگا۔ وہ کمپنیاں جنہوں نے ٹھگ بازی اور دھوکہ دہی سے کروڑوں اربوں روپے کمائے وہ اُتنی ہی جلدی اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔
تو خلاصہ مضمون کا یہ ہے کہ ہمیشہ سچ بولو اور ایسا مال کماؤ جس میں کسی کا حق نہ ہو۔ جس کو بھی مال بیچو اُسکو خوب راضی کرو اور اُسکی دعائیں لو ۔ کبھی بھی گاہک کو اس نظر سے مت دیکھو کہ بس یہ چیز خرید لے اور میرے پاس پیسہ آجائے پھر باقی باتیں بعد میں دیکھ لیں گے ۔ بلکہ خلوص اور ہمدردی کو شامل کرو۔ اور یہ سمجھو کہ اگر اسکا نقصان ہوا تو اُسکی نحوست میرے کاروبار پر پڑے گی اور مجھے دوگنا نقصان ہوگا ۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more