چوتھا واقعہ
کالم نگار عطاء الحق قاسمی لکھتے ہیں میں ایک خوبصورت نوجوان کو جانتا ہوں ٗ اس کا نام ریاض ہے۔ یہ باریش نوجوان کاروں کی ایئرکنڈیشنگ کا کام کرتا ہے۔ ریاض بظاہر زیادہ پڑھا لکھا شخص نہیں ہے لیکن اس کے اندر کی خوبصورتی اس سے خوب صورت بات کہلواتی ہے۔سڑک سے گزرتے ہوئے جب اسکی ورک شاپ کے بورڈ پر میری نظر پڑتی ہے تو میں کچھ دیر کے لیے اس کے پاس رک جاتا ہوں۔
ایک دن میں نے ریاض سے پوچھا کہ اگر تم چاہو تو اپنے ہم پیشہ لوگوں کی طرح گاہکوں کی کھال اُتار سکتے ہو ٗ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ تم کئی دفعہ ایک آدھ تار کو ہلا جلا کر گاڑیوں کا ایئر کنڈیشن ٹھیک کر دیتے ہو اور اس کا کچھ معاوضہ بھی نہیں لیتے ہو ٗ حالانکہ اس کام سے ناواقف گاہک کو تم کچھ بھی بتا کر اورچار گھنٹے بعد گاڑی واپس لے جانے کا کہہ کر اس سے ہزاروں روپے اینٹھ سکتے ہو۔ کیا تم اتنے رئیس ہوگئے ہو کہ اب تمہیں مال و دولت کی ضرورت ہی نہیں رہی؟
میری یہ بات سن کر ریاض ہنسا اور کہنے لگا : ’’ قاسمی صاحب! ہمارے ملک کے کئی کروڑ عوام آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔ ایمان اور یقین میں بہت فرق ہے۔۔۔ مجھے اگر یقین ہے کہ قبر کا عذاب کوئی چیز ہے۔۔۔ مجھے اگر یقین ہے کہ بے ایمانی رشوت ستانی۔۔۔ حسد۔۔۔ بغض۔۔۔ کینہ ۔۔۔ قتل ۔۔۔ دل آزاری۔۔۔ تخریب کاری۔۔۔ بہتان تراشی یہ بہت بڑے گناہ ہیں اور ان کا مرتکب دوزخ میں جائیگا تو مجھے بتائیں میں یہ گناہ کیسے کرسکتا ہوں؟ مجھ سے تو سردیوں میں بھی زیادہ دیر تک آگ کے قریب نہیں بیٹھا جاتا ۔۔۔ میں جہنم کا الاؤ کیسے برداشت کروں گا ؟
کاش! ہمارا مسلم معاشرہ ایمان کے بعد کبھی یقین کی اس منزل تک بھی پہنچ جائے جہاں ریاض جیسا خوبصورت نوجوان ہے۔ کاش اے کاش…!۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

