چنگیز خان اور سکندر اعظم کی قبریں کہاں ہیں؟
تاریخ اسلام میں ہے جب چنگیز خاں کا انتقال ہونے لگا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے یہ وصیت کی کہ جب میں مرجائوں تو فلاں درخت کے نیچے مجھے دفنا دینا انتقال ہوا درخت کے نیچے دفنایا گیا اتفاق سے دوسرے روز بارش شروع ہوئی اور چھ ماہ تک بارش ہوتی رہی وہ جگہ جنگل میں تبدیل ہوگئی اور وہ درخت اس جنگل میں مل گیا لوگوں کو پتہ نہ رہا کہ چنگیز خاں کو کس درخت کے نیچے دفنایا گیا تھا وہ ظالم قوم جنہوں نے بیک وقت بیس بیس لاکھ انسانوں کو قتل کیا جو گھوڑے کی پشت سے تین تین روز تک اترتے نہیں تھے پیاس لگتی تو گھوڑے کی پشت پر خنجر مارتے کٹورا ساتھ ہوتا کٹورے کو خون سے بھرتے اور اسے پی جاتے یہ ان کا پانی تھا آج ان کے سردار کی قبر کا ٹھکانہ نہیں۔۔۔۔
خطبات حکیم الاسلام میں مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے کہ سکندر اعظم کی قبر عراق کے بابل کے کھنڈرات میں ہے لیکن قبرستان میں کوئی صحیح قبر نہیں بتا سکتا۔۔۔۔ جب کوئی سیاح سیر کو یا تفریح کو جاتا ہے تو وہاں کے گائیڈ کچھ قبروں کی طرف اشارہ کرکے بتاتے ہیں کہ انہیں قبروں میں ایک قبر سکندر اعظم کی ہے۔۔۔۔
فائدہ: جس انسان نے دنیا فتح کی آج اس کی قبر کی نشاندہی مشکل ہے اس لیے انسان اپنے ایمان اور اعمال بنانے کی فکر کرے اور اللہ کی بارگاہ میں اتنا مقبول ہوجائے کہ لوگ اس کے لیے دعا کریں۔۔۔۔(ایک ہزار انمول موتی جلد۱)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

