والدین کی وفات کے بعد اُنکی خدمت کیسے کرسکتےہیں؟ (137)۔
اپنے والدین پر جان نثار کرنا اور اُنکی اطاعت وفرمانبرداری میں ہر ممکن کوشش کرنا انسان کے لئے وہ سعادت ہے جس کا نقد انعام دنیا میں مل جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا عمل ہے جو عنداللہ مقبول ہے اور جس شخص نے بھی اپنے والدین کے ساتھ دین اسلام کے مطابق حسن سلوک کیا وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوا۔ مگر کچھ لوگ ایسے ناسمجھ ہوتے ہیں جن کو یہ حقیقت باوجود کوشش کے بھی سمجھ میں نہیں آتی اور پھر والدین کے گزر جانے کے بعد اُنکو شدید قسم کا پچھتاوا ہوتا ہے۔اب اس پچھتاوے کی بھرپائی کے لئے وہ ایصال ثواب کرتے ہیں جو کہ بہترین عمل ہے۔
اسکے علاوہ لوگ قرآن مجیدیا پارہ سیٹ وغیرہ خرید کرکے والدین کے ایصال ثواب کے لئے تقسیم بھی کرتے ہیں۔ مگر میں آپکو آج ایک ایسا طریقہ بتاتا ہوں جس پر عمل کرکے آپکو بھی خوشی محسوس ہوگی اور پچھتاوا بھی نہیں ہوگا۔
وہ طریقہ یہ ہے کہ اگر آپکے والدین اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو آپ اُنکے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ مثلاً اگر والد کے بھائی یعنی چچا میں سے کوئی موجود ہے تو اُنکی خدمت کریں، اُنکو ہدیہ پیش کریں اور اُنکے ساتھ اتنا حسن سلوک کریں کہ آپکو اس بات کا یقین ہوجائے کہ اگر یہ چچا کے ساتھ حسن سلوک میں اپنے والد کو بتاتا تو وہ بہت خوش ہوتے۔ تو اُنکا خوشی بھرا چہرہ آپکی نگاہوں میںآجائیگا جو کہ آپکی تسکین کا سبب بھی ہوگا اور والدین کو بھی راحت کی خبر پہنچے گی۔
اسی طرح اگر کسی کی والدہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئی ہیں تو اُسکو چاہئے کہ ایصال ثواب بھی کرے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی والدہ کے قریبی رشتہ دار مثلاً اگر خالہ زندہ ہیں تو اُن پر بھی خرچ کرے اور اُنکی خوب خدمت کرے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے وہ اپنی والدہ کی خدمت کررہا ہے۔ بلکہ ایک حدیث شریف کے مفہوم میں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ چچا بالکل والد کی طرح ہی ہوتا ہے۔اگر چچا کا احترام کیا تو گویا والدکا ہی احترام کیا۔
ہمارے ایک عزیز کے والد فوت ہوگئے تو انہوں نے والد کی وفات کے بعد اپنے چچا سے کچھ تلخ کلامی کردی تو اُس عزیز کی خوش نصیبی دیکھئے کہ رات کو والد صاحب خواب میں آئے اور کہا کہ میں تم پر ناراض ہوں(تم مجھے ہاتھ بھی مت لگاؤ) کیونکہ تم نے مجھے فلاں فلاں بات کی ہے۔ تو وہ حیران ہوکرکہنے لگے کہ یہ باتیں تو میں نے چچاسے کہی تھیں۔ تو مرحوم والد صاحب خواب میں کہنے لگے کہ گویا یہ باتیں تم نے مجھے ہی کہی ہیں!
تو آپ بھی اگر والدین کی خدمت اُنکے فوت ہوجانے کے بعد کرنا چاہتے ہیں تو سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اُنکے قریبی رشتہ داروںاور دوستوں کا خیال کریں، خدمت کریں اور اُن پر خرچ کریں یہ چیز اجنبی لوگوں پر خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے والدین کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے اور ہر اولادکو اپنے والدین کی خوب قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

