نگاہِ حق و نگاہِ بد کا معیار
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعضوں کو دھوکہ ہوتا ہے ، شیطان بہکاتا ہے کہ جیسے کسی پھول یا اچھے کپڑے یا اچھے مکان وغیرہ کو دیکھنے کا دل چاہتا ہے ، ایسے ہی اچھی صورت دیکھنے کو بھی دل چاہتا ہے، یہ بالکل دھوکہ ہے ۔ یاد رکھو! رغبت کے مختلف انواع ہیں جیسی رغبت پھول کی طرف ہے ویسی انسان کی طرف نہیں۔ اچھے کپڑے کو دیکھ کر کبھی دل نہیں چاہتا کہ اس کو گلے لگالوں، چمٹالوں ، انسان کی طرف ایسی ہی رغبت ہوتی ہے۔ ایک دھوکہ اور ہوتا ہے کہ بعضے کہتے ہیں کہ جیسے اپنے بیٹے کو دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ گلے لگالوں ، اسی طرح دوسرے بچے کو دیکھ کر بھی ہمارا یہی جی چاہتا ہے۔ صاحبو! کھلی ہوئی بات ہے ، اپنے سیانے بچے اور دوسرے کے سیانے لڑکے میں بڑا فرق ہے۔ اپنے لڑکے کو گلے لگانا اور چمٹانا اور طرح کا ہے، اس میں شہوت کی آمیزش ہرگز نہیں ۔ اور دوسرے لڑکے کی طرف اور قسم کا میلان ہے کہ اس میں گلے لگانے سے بھی آگے بڑھنے کو بعض کا جی چاہتا ہے۔ محبوب کی جدائی میں اور طرح کا رنج ہوتا ہے اور اپنے لڑکے کی جدائی میں اور قسم کا ۔ اور لڑکوں کی رغبت تو اور بھی سم قاتل ہے،نصوص میں اس کی حرمت ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

