ننانوے وجوہ کفر کا حکم
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ فقہاء نے جو فرمایا ہے کہ اگر ننانوے وجہ کفر کی ہوں اور ایک اسلام کی تو تکفیر جائز نہیں۔ اگر اس کا وہ مطلب ہو جو نیچری وغیرہ سمجھتے ہیں تو دنیا میں کوئی کافر ہی نہ ہوگا کیونکہ ہر کافر میں کوئی نہ کوئی تو وجہ اسلام کی پائی ہی جاتی ہے، مثال کوئی عقیدہ توحید کا، قیامت کا یا کوئی عمل یا کچھ عمل ، کچھ اخلاق ، سخاوت، مروت ، رحم وغیرہ تو کیا اس سے اسلام کا حکم کیا جائے گا؟ سو فقہاء کی یہ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر کسی قول یا فعل میں کفر کے تو ننانوے محل محتمل ہوں اور ایک تاویل اسلام کی محتمل ہو تو اس تاویل پر حکم کریں گے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

