نئی تہذیب کا عجیب فلسفہ (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ پروپیگنڈے کی قوتوں نے یہ عجیب و غریب فلسفہ ذہنوں پر مسلط کردیا کہ عورت اگر اپنے گھر میں اپنے اور اپنے شوہر، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور اولاد کے لیے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید اور ذلت ہے لیکن وہی عورت اجنبی مردوں کے لیے کھانا پکائے ، ان کے کمروں کی صفائی کرے ، ہوٹلوں اور جہازوں میں ان کی میزبانی کرے ،دوکانوں پر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے اور دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے تو یہ ’’آزادی‘‘ اور ’’اعزاز‘‘ ہے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
پھر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ عورت کسب ِ معاش کے آٹھ آٹھ گھنٹے کی یہ سخت اور ذلت آمیز ڈیوٹیاں ادا کرنے کے باوجود اپنے گھر کے کام دھندوں سے اب بھی فارغ نہیں ہوئی۔ گھر کی تمام خدمات آج بھی پہلے کی طرح اسی کے ذمے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں اکثریت ان عورتوں کی ہے جن کو آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد اپنے گھر پہنچ کر کھانا پکانے ، برتن دھونے اور گھر کی صفائی کا کام بھی کرنا پڑتا ہے
۔۔(اصلاحی خطبات، جلد۱، صفحہ ۱۴۶)۔۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

