میں تو گالی والی زبان سے محروم ہوں
مفتی اعظم ہند مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ میں ایک جگہ تقریر کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ایک صاحب نے جو اپنے ہی تھے پرچہ دیا، جس میں لکھا تھا کہ جب یہ مدمقابل کے لوگ گالی دے رہے ہیں تو آپ گالی کیوں نہیں دیتے؟ کیا آپ کے منہ میں زبان نہیں ؟ میں نے کہا، ہاں بھائی! میرے منہ میں زبان نہیں۔۔۔۔۔ زبان حق تعالیٰ شانہ کی نعمت ہے۔۔۔۔۔ اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اچھے کاموں میں مشغول رکھا جائے۔۔۔۔۔ ذکر کریں، تلاوت کریں، وعظ کہیں، غلط جگہ اس کو استعمال کرنا ناشکری ہے۔۔۔۔۔ اس لئے میں تو گالی والی زبان سے محروم ہوں۔۔۔۔۔ بتایئے اگر کسی شخص کے پاس طرح طرح کے عطر ہوں، خوشبوئیں ہوںاور کوئی آکر اس سے کہے کہ آپ کے پاس گوبر تو ہے ہی نہیں تو وہ کہنے والا ہے نا بے وقوف، پاگل خانہ میں بھیجنے کے لائق۔۔۔۔۔ اسی طرح زبان کو سمجھ لو۔۔۔۔۔ (ملفوظات فقیہ الامت ، ج۲ قسط ۷،ص۱۱۲)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

