مناظرہ کی مضرت
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ مناظرے اب بھی ہوتے ہیں مگر حق واضح نہیں ہوتا ۔ اس کا اصلی سبب یہ ہی ہے کہ طلب ِ حق کا قصد نہیں ہوتا بلکہ حق کو قلب میں آنے سے دفع کرتے ہیں۔ آج کل کے مناظرہ کاا صل مقصد(اپنی بات کا) غلبہ ہوتا ہے ، ہیٹی نہ ہو ، سبکی نہ ہو، چاہے آخرت میں ذلت اور سبکی ہو۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے صاحبزادے کو مناظرہ سے منع فرمایا تھا ۔ صاحبزادہ نے عرض کیا کہ آپ بھی تو مناظرہ کرتے تھے ۔ امام صاحبؒ نے عجیب بات فرمائی کہ بھائی ہمارے تمہارے مناظرے میں فرق ہے۔ ہم دل سے یہ چاہتے ہیں کہ خصم (مخالف) کے منہ سے حق بات نکلے اور ہم اس کو قبول کرلیں اور مناظرہ بند کردیں گو ہم ہار ہی جائیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ خصم کے منہ سے حق بات نہ نکلے کہ ہم کو قبول کرنا پڑے اس لیے ہم کو مناظرہ جائز تھا اور تم کو ناجائز ، اور اس وقت تو نہ وہ صورت رہی نہ یہ، صرف یہ پیش نظر ہوتا ہے کہ ہیٹی نہ ہو خواہ حق کو رد ہی کرنا پڑے ۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۱۵۸)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

