مناسب رشتہ نہ ملنے کا فضول عذر
(۱)
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ کہیں موقع کا رشتہ ہی نہیں آتا تو کیا کسی کے ہاتھ پکڑا دیں؟ یہ عذر اگر واقعی ہوتا تو صحیح تھا یعنی سچ سچ اگر موقع کا رشتہ نہ آتا تو واقعی یہ شخص معذور تھا لیکن خود اسی میں کلام ہے کہ جو رشتے آتے ہیں کیا وہ سب ہی بے موقع ہیں؟ بات یہ ہے کہ بے موقع کا مفہوم خود انہوں نے اپنے ذہن میں تصنیف کر رکھا ہے جس کے اجزاء یہ ہیں:
۔(۱) حسب نسب حضرات حسنین رضی اللہ عنہما جیسا ہو۔ (۲) اور اخلاق میں جنید (بغدادی رحمہ اللہ)جیسا ہو۔ (۳) اور علم میں اگر وہ دینی علم ہے تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے برابر ہو، اگر دنیوی علم ہے تو بوعلی سینا کا مثل ہو۔ (۴) حسن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا ثانی ہو۔ (۵) اور ثروت و ریاست میں قارون و فرعون کے ہم پلہ ہو۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

