مظلوم کی حمایت کیلئے بار بار سفر
ایک دفعہ سلطان فیروز شاہ کے وزیر خان جہان نے ایک نوجوان کو ذاتی عداوت کی بنا پر قید میں ڈال دیا تھا اور اس کو نت نئی اذیتیں پہنچاتا تھا۔ اس نوجوان کا باپ مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے درخواست کی کہ میرے ساتھ چل کر وزیر کے پاس سفارش کیجئے کہ وہ میرے فرزند کو رہا کر دے اور ناحق اس کو اذیتیں نہ دے۔ مخدوم جہانیاں کا دل اس مظلوم کی مصیبت پر تڑپ اٹھا۔ فوراً وزیر کے مکان پر پہنچے۔ اس نے آپ سے ملنے سے ہی انکار کر دیا۔ حضرت واپس آ گئے لیکن اس شخص کا فرزند چونکہ بہت تکلیف میں تھا، وہ بار بار آپ کی خدمت میں آتا اور آپ بار بار وزیر کے پاس جاتے لیکن وہ اس نوجوان کورہا کرنے سے صاف انکار کر دیتا تھا۔ شیخ جمالی رحمہ اللہ سیر العارفین میں لکھتے ہیں کہ حضرت مخدوم اس مظلوم کی سفارش لے کر انیس بار وزیر کے پاس گئے اور ناکام واپس آئے۔ جب بیسویں مرتبہ گئے تو وزیر نے جھلا کر کہا اے سید! تم کو شرم نہیں آتی کہ صاف جواب پا کر بھی بار بار میرے پاس دوڑتے چلے آتے ہو۔
آپ نے فرمایا، اے عزیز! مجھے تمہارے پاس آنے جانے میں دوہرا ثواب ملتا ہے، ایک تو اس بات کا کہ ایک مظلوم کو مصیبت سے بچانا چاہتا ہوں۔ دوسرا اس بات کا کہ تجھے نیکوں کے گروہ میں داخل کرنے کی سعی کرتا ہوں۔
وزیر آپ کا ارشاد سن کر کانپ اٹھا اور آپ کے قدموں پر گر کر معافی مانگی پھر اس نے مظلوم کو نہ صرف رہا کر دیا بلکہ بہت کچھ انعام و اکرام بھی دیا۔(مثالی بچپن)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

