مصیبت کے فوائد اور خاصیتیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ مصیبت میں یہ خاصیت ہے کہ اخلاق درست ہو جاتے ہیں، انسان اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے، توبہ نصیب ہو جاتی ہے، تنبہ ہوتا ہے کہ فلاں امر کی وجہ سے یہ ہوا تو یہ کھلے فائدے نظر آتے ہیں مگر بعض لوگ اس کو یاد نہیں رکھتے ۔ پس اسی معنی میں مصیبت نہیں کہی جائے گی مگر ظاہر نظر میں وہ مصیبت ہے کیونکہ حقیقتِ لغویہ مصیبت کی یہ ہے کہ کوئی بات خلاف طبیعت پیش آوے اور چونکہ زندگی میں زیادہ واقعات ایسے ہی ہوتے ہیں اس لئے کوئی بھی مصیبت سے خالی نہیں ہے۔ کوئی مال کی طرف سے پریشان ہے ، کوئی صحت کی طرف سے پریشان ہے کوئی اولاد کی طرف سے پریشان ہے۔ غرض ہر شخص کو کوئی نہ کوئی مصیبت لاحق ہے اگرچہ ہر ایک پر اثر الگ الگ ہوتا ہے اور ایک سرسری اثر ایسا بھی ہے کہ کوئی مسلمان اس سے خالی نہیں اگرچہ برائے چندے ( کچھ عرصہ کے لئے ) ہی ہو اور وہ اثر تنبہ ہے اپنی بدعملی پر اور اپنے ضعف و عجز پر۔ بڑا ظالم ہے وہ شخص کہ اس پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اس پر متنبہ نہ ہو بلکہ کہنا چاہئے کہ وہ انسان ہی نہیں اور جو انسان ہوگا وہ ضرور اس طرح متاثر ہوگا اور یہ تاثر بہت بڑی نعمت ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

