مسلمان ہونے کی وجہ
ایک آدمی مسلمان ہوا۔ پوچھا کہ بھئی کیسے مسلمان ہو گئے؟ کہنے لگے کہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہودی کہتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں، عیسائی کہتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں، مسلمان کہتے ہیں ہم ٹھیک ہیں، دنیا کمے تین بڑے مذاہب تو یہی ہیں نا تو میں نے کہا کہ مجھے کیا پتہ کون ٹھیک ہے؟ تو میں ویری فائی تو کروں۔ تو کہنے لگا کہ میںنے انجیل لی اس کو کاتب کے ذریعے سے میںنے لکھوایا، اس کو کہا کہ یار کہیں کہیں تھوڑا اپنی مرضی سے اونچ نیچ کر لینا اور یاد رکھنا کہ کہاں تم نے اس میں گڑ بڑ کی تھی۔ چنانچہ میںنے ایک کتاب لکھوائی اور ایک عیسائی پادری کے پاس لے کر گیا، میں نے کہا: جی میرے پاس یہ لکھی ہوئی کتاب ہے میںآپ کو تحفہ دینے آیا ہوں اور جب میں نے اس کو تحفہ دیا تو وہ بڑا خوش ہوا۔ ایک سال میں نے انتظارکیا، ایک سال میں وہ میرے پاس نہ آیا کہ اس میں کوئی کمی بیشی ہے۔ تو میں سمجھ گیا کہ اس کتاب کی حفاظت بالکل نہیں اگر ہوتی تو اس میںاس کو غلطی کا پتہ چل جاتا۔ تو میں نے نتیجہ نکالا کہ یہ غیر محفوظ کتاب ہے۔
پھر میںنے ایک تورات لی اس کو بھی میں نے لکھوایا اور اس میں بھی اسی طرح گڑ بڑ کروائی اور ایک رباعی کو جا کرمیں نے ہدیہ دیا۔ ایک سال میں نے انتظارکیا ایک سال تک وہ بھی اس کو ہر ہفتے کے دن پڑھ پڑھ کے سناتا تھا اپنے عبادت خانے میں لیکن اس کو بھی کہیں پتہ نہ چلا کہ اس میں کہیں کمی بیشی ہوئی کہ نہیں۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ کتاب بھی غیرمحفوظ ہے۔
پھر میں نے قرآن پاک لیا اوراس کی کاپی بنوائی اور کاتب کو کہا کہ اس میں بھی کہیں کہیں اپنا کرتب دکھا دینا۔ کاتب بھی تو تب دکھاتے ہیں نا۔(ج ۲۷ ص ۹۴)
چنانچہ ایک کاتب تھا جس کو لکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ اونچ نیچ کر دینے کا شوق تھا، وہ کوئی نہ کوئی کمی بیشی کر ہی دیتا تھا۔ لوگ مسودہ لے کر آتے تھے اور وہ اپنی مرضی سے کچھ تبدیلی کر دیتاتھا۔ ایک بندے نے اس سے قرآن پاک لکھوانا تھا، اس نے کہا کہ بھئی! میں نے سنا ہے تم کچھ اپنی مرضی سے ہیر پھیر کر دیتے ہو، خبردار! اس میں اپنی طرف سے کچھ نہ کرنا۔ اب وہ جاہل تھا، اتنا علم تو تھا ہی نہیں۔ کاتب نے قرآن پاک لکھ دیا۔ کچھ دنوں بعد وہ قرآن پاک لینے آیا تو پوچھا کہ اس میں تم نے کوئی گڑ بڑ تو نہیں کی؟ کہا نہیں نہیں، گڑ بڑ میں نے کوئی نہیں کی، بس ایک دو جگہ ایسے ذرا مجھے کچھ محسوس ہوا تھا، اس نے کہا کیا؟ کہنے لگا کہ لکھا ہوا تھا {فَخَرَّ مُوْسیٰ} تو خر تو کدھے کو کہتے ہیں اور گدھا تو عیسیٰ علیہ السلام کا تھا جبکہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کا نام لکھا ہوا تھا تو وہاں میںنے موسیٰ کی جگہ عیسیٰ کا نام لکھ دیا۔ اور عصٰی آدم اور عصا تو تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تو نام آدم ؑ کا لکھا ہوا تھاتو میں آدم کی جگہ موسیٰ کا نام لکھ دیا۔ اس نے پوچھا اور کیا کیا۔ اس نے کہا: میں نے اور کیا کرنا تھا ایک دو جگہ میں دیکھا کہ فرعون کانام تھا، قارون کا نام تھا تو وہ مجھے اچھے نہ لگے کہ دیکھو! یہ کافر ایمان والوں کے دشمن لوگ ہیں ان کے نام قرآن میں تو نہیں ہونے چاہئیں چنانچہ میں نے تمہارے باپ اور دادا کا نام لکھ دیا۔ اس نے کہا اور کیا کیا؟ کہنے لگا یار بس مجھے تین چار جگہ شیطان کا نام بھی ملا تو میں نے کہا کہ اس مردود کا نام تو بالکل نہیں ہونا چاہئے تو کیونکہ تم لکھوا رہے تھے تو میں نے اس کی جگہ تمہارا نام لکھ دیا۔
تو جب یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایڈیشن نہیں ہو سکتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب کوئی ایسی کاپی پرنٹ ہی نہیں ہو سکتی جس میں کسی لفظ کی غلطی نہ ہو، ایسا ممکن ہے لیکن غلطی اس میں قرار نہیں پکڑ سکتی۔ کوئی بندہ چھاپنے والا چھاپ سکتا ہے۔ جس میں غلطی سے کوئی حرف چھوٹ گیا ہو، کوئی نکتہ رہ گیا ہو، کوئی زیر زبر کی غلطی رہ گئی ہو۔ لیکن وہ غلطی قرار نہیں پکڑ سکتی۔ جیسے ہی کسی کے پاس آئے گا تو وہ بندہ اس کو دیکھے گا تو حافظ فوراً اس کو بتا دے گا کہ بھئی یہ تو یہاں سے ٹھیک نہیں۔ تو غلطی اس میں قرار نہیں پکڑ سکتی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے قرآن پاک لکھوایا جس میں میں نے کاتب سے کرتب بھی ڈلوایا اور میں اسے ایک حافظ قرآن کے پاس لے کر گیا اور کہا کہ یار! میرے پاس یہ ایک کتاب تھی تو میں تمہیں ہدیہ دینے آیا ہوں۔ کہنے لگے کہ تین دن نہیں گزرے تھے کہ میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، میں باہر نکلا تو میںنے دیکھا کہ حافظ صاحب ذرا سیریس ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ یہ کاپی آپ نے کس سے لکھوائی تھی۔ میں نے کہا کہ ایک کاتب سے لکھوائی تھی۔ اس نے کہا: کہ اس نے سوتے ہوئے لکھی تھی، یا جاگتے ہوئے لکھی تھی۔ میں نے کہا کہ یار جاگتے ہوئے ہی لکھی ہو گی۔ کہنے لگا: کہ اس میں اس نے اتنی غلطیاں کیں! کہنے لگا : کہ پہلے صفحے سے اس نے کھولنا شروع کیا ہر ہر جگہ پر جہاں جہاں اس نے کچھ کمی بیشی کی تھی اس جگہ پر نشان لگا کر پورے قرآن پاک میں جو اس نے غلطیاں کی تھیں سب کو الگ کردیا۔ میں سمجھ گیا کہ واقعی دنیا کی یہ وہ کتاب ہے جس کے اندرکسی اورچیز کی ملاوٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا کلمہ پڑھ کر میں مسلمان ہو گیا۔
ترجمہ
بیشک اس قرآن مجید کو ہم نے ہی نازل کیا اور اس کی حفاظت کے بھی ہم ہی ذمہ دار ہیں۔(ج ۲۷ ص ۹۵)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

