مسلمان کے دل کو اچانک خوش کرو ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کے گناہ بخش دے گا

مسلمان کے دل کو اچانک خوش کرو ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کے گناہ بخش دے گا

ایک شخص سات سو درہم کا مقروض تھا کچھ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ سے کہا کہ آپ اس کا قرض ادا کردیں انہوں نے منشی کو لکھا کہ فلاں شخص کو سات ہزار درہم دے دیئے جائیں۔۔۔
یہ تحریر لے کر مقروض ان کے منشی کے پاس پہنچا اس نے خط پڑھ کر حامل رقعہ سے پوچھا کہ تم کو کتنی رقم چاہیے اس نے کہا میں سات سو کا مقروض ہوں اور اسی رقم کے لیے لوگوں نے ابن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ سے میری سفارش کی ہے منشی کو خیال ہوا کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھول ہوگئی ہے اور وہ سات سو کے بجائے سات ہزار لکھ گئے ہیں۔۔۔ منشی نے حامل رقعہ سے کہا کہ خط میں کچھ غلطی معلوم ہوتی ہے تم بیٹھو! میں ابن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ سے دوبارہ دریافت کرکے تم کو رقم دیتا ہوں ۔۔۔اس نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ کو لکھا کہ خط لانے والا تو صرف سات سو درہم کا طالب ہے اور آپ نے سات ہزار دینے کی ہدایت کی ہے کہیں غلطی تو نہیں ہوگئی ؟ انہوں نے جواب میں لکھا کہ جس وقت تم کو یہ خط ملے۔۔۔ اسی وقت اس شخص کو تم چودہ ہزار درہم دے دو منشی نے ازراہ ہمدردی ان کو دوبارہ لکھا کہ اسی طرح آپ اپنی دولت لٹاتے رہے تو جلد ہی سارا سرمایہ ختم ہوجائے گا۔۔۔ منشی کی یہ ہمدردی اور خیر خواہی ان کو ناپسند ہوئی اور انہوں نے ذرا سخت لہجہ میں لکھا کہ اگر تم میرے ماتحت و مامور ہوتو میں جو حکم دیتا ہوں ۔۔۔اس پر عمل کرو اور اگر تم مجھے اپنا مامور ومحکوم سمجھتے ہوتو پھر تم آکر میری جگہ پر بیٹھو۔۔۔ اس کے بعد جو تم حکم دو گے میں اس پر عمل کروں گا۔۔۔۔ میرے سامنے مادی دولت وثروت سے زیادہ قیمتی سرمایہ آخرت کا ثواب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد گرامی ہے ۔۔۔جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ:۔
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو اچانک اور غیر متوقع طور پر خوش کردے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔۔۔
اس نے مجھ سے سات سو درہم کا مطالبہ کیا تھا۔۔۔ میں نے سوچا کہ اس کو سات ہزار ملیں گے تو یہ غیر متوقع رقم پاکر بہت زیادہ خوش ہوگا ۔۔۔اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق میں ثواب کا مستحق ہوں گا۔۔۔ دوبارہ رقعہ میں چودہ ہزار انہوں نے اس لیے کرایا کہ غالبا لینے والے کو سات ہزار کا علم ہوچکا تھا ۔۔۔اس لیے اب زائد ہی رقم اس کے لیے غیر متوقع ہوسکتی تھی۔۔۔ ( سیر صحابہ: جلد ۸ صفحہ ۳۲۲)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more